کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ کے فیصلے عوامی خدمت کے عملی ایجنڈے کا تسلسل ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی نعروں کے بجائے عملی خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے۔
ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کے پاس عوامی خدمت کے لیے واضح فیصلے، منصوبے اور عملی ایجنڈا موجود ہے۔ سندھ میں زمینوں کے ریکارڈ کے نظام کو جدید اور شفاف بنایا جا رہا ہے جبکہ بلاک چین ٹیکنالوجی کے ذریعے زمینوں کے ریکارڈ کو محفوظ اور شفاف بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو زمینوں سے متعلق معاملات میں غیرضروری دفتری چکروں سے نجات دلانا چاہتی ہے۔ زمینوں کے ریکارڈ میں فراڈ اور ملکیتی تنازعات کی روک تھام بھی سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ میں صحت کے شعبے میں بھی ایک بڑا عوامی منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے اشتراک سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (این آئی سی ایچ) میں 445 بستروں پر مشتمل میڈیکل ٹاور کا قیام اہم پیش رفت ہے۔ سندھ حکومت عوامی خدمت کے اداروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی۔
سینئر وزیر نے کہا کہ سندھ اپنے آئینی اور مالی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ سندھ کے نوجوانوں کو مایوسی نہیں بلکہ مواقع کی ضرورت ہے، اس لیے نوجوانوں کے لیے تعلیم، صحت، کھیل اور گرین اسکلز کے شعبوں میں مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی نئی اسپورٹس پالیسی نوجوانوں کے مستقبل کی پالیسی ہے۔ کھیل کو محض تفریح کے بجائے نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ کراچی سے تھر تک سندھ کے ہر نوجوان کو یکساں مواقع فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔
شرجیل میمن کے مطابق مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور روبوٹکس جدید سندھ کی تعلیمی ترجیحات میں شامل ہیں۔ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور سندھ بھی اپنی تعلیمی ترجیحات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا مقصد عوامی مفاد میں وسائل اور مہارت کو یکجا کرنا ہے۔ سندھ حکومت ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے نظام کو مزید مؤثر بنا رہی ہے اور جدید ٹیکنالوجی و اصلاحات کے سفر کو جاری رکھا جائے گا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کا واضح پیغام ہے کہ عوامی خدمت کا سفر مزید تیز کیا جائے گا۔