جدہ: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حج 2018ء کیلئے معاہدہ طے پا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت رواں سال پاکستان سے 179,210 افراد حج کریں گے۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ اس حوالے سے سعودی محکمہ حج و عمرہ میں ایک تقریب ہوئی۔ پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کی اور سعودی عرب کی طرف سے حج اور عمرہ کے وزیر ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر موجود تھے۔ تقریب میں سیکریٹری مذہبی امور خالد مسعود چوہدری، ڈی جی حج ڈاکٹر سید ساجد یوسفانی اور ڈائریکٹر حج امتیاز نے بھی شرکت کی۔
وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف نے ملاقات کے دوران ڈاکٹر محمد صالح بن طاہر کو بتایا کہ حالیہ مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی بڑھی ہے۔ انھوں نے پاکستانی حجاج کی تعداد آباد ی کے تناسب سے 179,210 سے 210,000 تک بڑھانے کی درخواست کی۔سعودی عرب کے وزیر نے درخواست پر غور کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ حج 2018ء کے انتظامات کے حوالے سے انہوں نے پاکستانی حجاج کو ٹرین کی سو فیصد سہولت دینے کی درخواست بھی کی اور کہا کہ اگر کسی وجہ سے یہ سہولت تمام حجاج کو میسر نہ ہو تو باقی تمام حجاج کو کم ازکم یکطرفہ سروس ضرور دی جائے۔ پاکستان میں بائیو میٹرک تصدیق ہوجانے کی صورت میں انہوں نے پاکستانی حجاج کو سعودی ائیر پورٹ پر بائیو میٹرک سے استثناء4 دئے جانے کی تجویز بھی پیش کی اور کہا کہ اس طرح زائرین کے وقت کی بچت ہوگی اور سعودی حکام کم وقت میں زیادہ حجاج کو سروس مہیا کر سکیں گے۔
سعودی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے سردار یوسف نے کہا کہ 2017 کے انتظامات بہت عمدہ تھے اور ہم 2017 ء میں حجاج کے لئے کامیاب انتظامات کرنے پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں. انہوں نے سعودی عرب کے حج اور عمرہ وزارت کے تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر پاکستانی وفد سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صالح نے کہا کہ پاکستانی حکام نے اپنے سعودی ہم منصبوں کے ساتھ حج کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا اور ہم ان پر فخر کرتے ہیں. حج آپریشن کامیاب کرنے اور حج 2017 میں حجاج کو بہترین خدمات فراہم کرنے کی کوششوں کے لئے انہوں نے پاکستان کے حج حکام کو مبارکباد دی۔
حج کے انتظامات اور حج 2018 سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دینے کے لئے وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف سعودی عرب کے تین روزہ دورہ پر ہیں۔