برطانیہ یورپی یونین سے باضابطہ طور پر الگ، نئے تجارتی تعلقات استوار

The United Kingdom formally secedes from the European Union, establishing new trade relations
کیپشن: فائل فوٹو

لندن: برطانیہ نے یورپی یونین سے باضابطہ طور پر الگ ہو کر اس کیساتھ نئے تجارتی تعلقات استوار کر لئے ہیں۔ بریگزیٹ کی تکمیل سے اب برطانیہ پر یورپی یونین کے قواعد لاگو نہیں ہوں گے۔

تفصیل کے مطابق برطانیہ نے یورپی یونین سے اپنی راہیں جدا کر لی ہیں۔ برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان نئے تجارتی تعلقات قائم ہو گئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ اور یورپی یونین میں طویل مذاکرات کے بعد بریگزٹ معاہدہ طے پایا تھا۔

بریگزیٹ کی تکمیل سے اب برطانیہ پر یورپی یونین کے قواعد لاگو نہیں ہوں گے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بریگزیٹ ملک کے لیے حیرت انگیز لمحہ اور برسلز میں طے شدہ قوانین سے آزادی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے بریگزیٹ سے برطانیہ کی علیحدگی کو نئے دور کا آغاز قرار دیا ہے۔ اس علیحدگی کے بعد برطانیہ پر اب یورپی یونین کے قوانین لاگو نہیں ہونگے۔

بی بی سی کے مطابق اب برطانیہ اور یورپ کے دیگر ملکوں کے درمیان سیکیورٹی، امیگریشن، تجارت اور سفر کے نئے قوانین اور ضوابط لاگو ہونگے۔ وزیراعظم بورس جانسن نے اس تاریخی اقدام کو برطانیہ کی آزادی سے تشبیہ دی ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ میں 2016ء میں بریگزیٹ سے علیحدگی کیلئے ایک ریفرینڈم کرایا گیا تھا جس میں شہریوں کی بڑی تعداد نے یورپی ممالک سے علیحدہ ہونے کے حق میں فیصلہ کیا تھا۔

تاہم اس کے باوجود برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی قوانین بدستور نافذ تھے۔ تاہم اب برطانیہ نے یورپی یونین کیساتھ ایک تاریخی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس معاہدے کو برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کر لیا گیا ہے جس کے بعد اسے قانونی شکل دیدی گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت برطانیہ کے تاجروں کیلئے یورپی منڈیوں میں ٹیکس فری ہوگا۔