غزہ: اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ سٹی کے مغربی علاقے میں واقع ایک کیفے کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 39 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں بڑی تعداد صحافیوں، فنکاروں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کی ہے، جو وہاں بیٹھ کر خبریں اور معلومات اپلوڈ کر رہے تھے۔
یورپی ہیومن رائٹس مانیٹر کے چیئرمین رامی عبدو کے مطابق القعقاع کیفے پر حملہ سوچا سمجھا اور منظم اقدام تھا، کیونکہ یہ مقام ان چند جگہوں میں شامل تھا جہاں انٹرنیٹ کی جزوی سہولت اب بھی دستیاب تھی۔ حملے کے وقت پورا علاقہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کا شکار تھا، اور کیفے میں موجود صحافی غزہ میں جاری صورتحال کو دنیا تک پہنچانے کی کوشش کر رہے تھے۔
غزہ حکام نے تصدیق کی ہے کہ شہید ہونے والوں میں معروف آرٹسٹ فرانس السالمی اور صحافی اسماعیل ابو حطب شامل ہیں، جو مختلف بین الاقوامی اور مقامی میڈیا اداروں سے منسلک تھے۔ اس حملے کو فلسطینی صحافتی اداروں نے آزادی صحافت پر حملہ اور صحافیوں کی منظم ٹارگٹ کلنگ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔
دوسری جانب، اسپتال ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید کم از کم 95 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں شمالی غزہ میں 57 اور جنوبی شہر رفح کے شمالی علاقے میں امداد کے منتظر 15 افراد شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر اپنے فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا، جسے فلسطینی حلقے کھلی نسل کشی قرار دے رہے ہیں۔ غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اب تک شہادتوں کی تعداد 56,530 سے تجاوز کر چکی ہے۔