Get Alerts

اقوام متحدہ کے دباؤ پر قانون سازی ہو رہی ہے:مولانا فضل الرحمان

 اقوام متحدہ کے دباؤ پر قانون سازی ہو رہی ہے:مولانا فضل الرحمان

پشاور : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کم عمر شادی کے بل کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیا اور حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔

پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں اسلامی قوانین کو پس پشت ڈال کر بین الاقوامی دباؤ کے تحت قانون سازی کی جا رہی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ "جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے اور قرآن و سنت کے خلاف قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں، جو ناقابلِ قبول ہے۔"

انہوں نے واضح کیا کہ جے یو آئی (ف) کم عمر شادی پر پابندی کے بل کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے کی مہم شروع کی جائے گی۔ اس سلسلے میں ملک کے مختلف شہروں میں جلسے اور عوامی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے، جبکہ 29 جون کو ہزارہ ڈویژن میں ایک بڑا اجتماع ہوگا۔

مولانا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اب اس کی اسلامی شناخت کو ختم کیا جا رہا ہے۔ کچھ قوانین اقوام متحدہ کی قراردادوں، اور آئی ایم ایف و ایف اے ٹی ایف کے مطالبات پر بنائے جا رہے ہیں، جو کہ قابلِ مذمت ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل بھی اس قانون کو مسترد کر چکی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت آئینی ضمانتوں کو پامال کر رہی ہے۔ مولانا کا کہنا تھا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کی شادی پر پابندی کے پیچھے اقوام متحدہ کا ایجنڈا ہے، اور اس قانون سے جائز نکاح کو مشکل بنایا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "ان کا احتجاج کرپشن کے خلاف نہیں بلکہ اپنی کرپشن کا ریکارڈ ٹوٹنے پر ہے۔"

سیاسی و سماجی حلقوں میں بحث شدت اختیار کر گئی
مولانا فضل الرحمان کے بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کم عمر شادی کو بچوں کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہیں، جبکہ مذہبی حلقے اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق جائز قرار دیتے ہیں۔

یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک نئی آزمائش بن سکتی ہے کیونکہ ایک طرف عالمی معاہدات اور انسانی حقوق کی پاسداری ہے، اور دوسری طرف ملک کے مذہبی حلقوں کا دباؤ۔

 
 

ٹیگز: