Get Alerts

’ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات‘: ملک بھر میں آج یومِ مئی، محنت کشوں کو خراجِ عقیدت

’ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات‘: ملک بھر میں آج یومِ مئی، محنت کشوں کو خراجِ عقیدت

اسلام آباد/کراچی/لاہور: آج یکم مئی ہے،وہ دن جو محنت کشوں کی عظمت، ان کی انتھک جدوجہد اور شکاگو کے شہداء کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدور ڈے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد معاشرے کے اس اہم ترین طبقے کے حقوق کو تسلیم کرنا اور ان کے مسائل کی جانب عالمی توجہ مبذول کروانا ہے۔
پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آج مزدور تنظیموں، ٹریڈ یونینز اور سول سوسائٹی کے زیرِ اہتمام جلسوں، جلوسوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔    لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ میں بڑی ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جہاں محنت کش اپنے مطالبات کے حق میں بینرز اور کتبے اٹھائے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں۔
    مزدور رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں "بندہِ مزدور" کے اوقات واقعی تلخ ہو چکے ہیں اور اجرتوں میں اضافے کے بغیر گزارہ ممکن نہیں۔
آج کا دن 1886 میں امریکہ کے شہر شکاگو میں آٹھ گھنٹے کام کی ڈیوٹی کے مطالبے پر اپنی جانیں قربان کرنے والے مزدوروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ ان کی اس قربانی نے عالمی سطح پر مزدور قوانین کی بنیاد رکھی اور آج اسی جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔
یومِ مئی کے موقع پر حکومتی شخصیات نے اپنے پیغامات میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ تاہم، مزدور طبقے کا مطالبہ ہے کہ صرف تقاریر اور تعطیل کافی نہیں، بلکہ     کم از کم اجرت پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔    کام کی جگہوں پر تحفظ اور سلامتی کے عالمی معیار اپنائے جائیں۔    مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیم اور صحت کی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔
جہاں آج سرکاری سطح پر چھٹی منائی جا رہی ہے، وہیں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ملک کے لاکھوں دہاڑی دار مزدور آج بھی چوک چوراہوں پر کام کی تلاش میں بیٹھے ہیں، کیونکہ ان کے گھر کا چولہا صرف اسی دن جلتا ہے جس دن وہ مشقت کرتے ہیں۔

ٹیگز: