لاہور : ریاض شاہد، جو پاکستانی فلمی صنعت کے نامور مصنف، ہدایت کار اور فلم ساز تھے، 53 سال قبل ہم سے جدا ہو گئے۔ وہ 1930 میں لاہور کے ایک کشمیری خاندان میں پیدا ہوئے۔ اصل نام شیخ ریاض تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم لاہور کے اسلامیہ کالج سے مکمل کی اور پھر بطور صحافی اپنے کیریئر کا آغاز کیا، جہاں انہوں نے معروف جریدے ’لیل و نہار‘ سے وابستگی اختیار کی۔
ریاض شاہد نے اپنی تحریری صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناول ’ہزار داستان‘ لکھا اور پھر فلم انڈسٹری کی جانب رخ کیا۔ ان کی پہلی تحریر کردہ فلم ’بھروسہ‘ 1958 میں ریلیز ہوئی اور اس نے انہیں شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ ان کی فلم ’شہید‘ نے بھی دھوم مچائی اور فلم ’سسرال‘ (1962) میں انہوں نے پہلی بار ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے، جو آج بھی پاکستانی سینما کی یادگار فلموں میں شمار کی جاتی ہے۔
ریاض شاہد نے اپنی زندگی میں تقریباً 32 فلموں کے کہانیاں اور مکالمے لکھے، جن میں ’بھروسہ‘، ’نیند‘، ’سسرال‘، ’شکوہ‘، ’خاموش رہو‘، ’فرنگی‘، ’آگ کا دریا‘، ’بدنام‘، ’بہشت‘ اور ’حیدر علی‘ شامل ہیں۔ انہوں نے پنجابی فلموں میں بھی نمایاں کام کیا، جیسے ’ماجھے دی جٹی‘ اور ’نظام لوہار‘۔ ان کی فلم ’زرقا‘ کو تین نگار ایوارڈز سے نوازا گیا اور مجموعی طور پر انہیں 11 نگار ایوارڈز ملے۔
ریاض شاہد نے اداکارہ نیلو سے شادی کی اور ان کے تین بچے ہیں۔ ان کے بیٹے شان پاکستانی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار ہیں، جبکہ بیٹی کا نام ’زرقا‘ اور دوسری بیٹی ’سروش‘ ہے۔
یکم اکتوبر 1972 کو خون کے سرطان کے مرض میں مبتلا ہو کر ریاض شاہد کا انتقال ہوا۔ وہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے ان بے مثال فنکاروں میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے اس شعبے کو نئی پہچان دی۔ ان کی خدمات اور عظمت ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔