Get Alerts

نامور کمپیئر، کالم نگار اور مصنف دلدار پرویز بھٹی کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس بیت گئے

 نامور کمپیئر، کالم نگار اور مصنف دلدار پرویز بھٹی کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس بیت گئے

لاہور :بیک وقت اردو، انگریزی اور پنجابی زبان پر عبور رکھنے والے نامور کمپیئر، کالم نگار اور مصنف دلدار پرویز بھٹی کو مداحوں سے بچھڑے 31 برس گزر گئے۔ ہر دلعزیز فنکار اور استاد دلدار پرویز بھٹی 30 نومبر 1948ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے اور اپنی فنی زندگی کا آغاز گورنمنٹ کالج ساہیوال میں لیکچرار کے طور پر کیا۔

دلدار پرویز بھٹی کی حاضر جوابی اور طنز و مزاح میں مہارت نے انہیں ایک منفرد مقام دیا۔ وہ ادب کے دائرے میں رہ کر لوگوں کو ہنسانے کے فن میں ماہر تھے، اور ان کا یہ انداز انہیں عوام میں بے پناہ مقبولیت کا حامل بنا گیا۔

ان کا فنی سفر ریڈیو پاکستان لاہور سے شروع ہوا، جہاں انہوں نے اپنی پہچان بنائی۔ 1974 میں انہیں ٹیلی ویژن پر پروگرام کرنے کا موقع ملا، اور ان کے عوامی انداز نے انہیں ملک بھر میں شہرت دلائی۔ ان کے مشہور پروگراموں میں "ٹاکرا"، "یادش بخیر" اور "جواں فکر" شامل ہیں۔ ان پروگرامز کی کامیابی کے بعد 1987ء میں انہوں نے "میلہ" پروگرام کی میزبانی کی، جسے 1990ء میں "پنجند" کے نام سے جانا جانے لگا۔ یہ پروگرام آج بھی مرحوم کی پہچان ہے۔

دلدار پرویز بھٹی نے مختلف کتابیں بھی تحریر کیں جن میں "دلداریاں"، "آمنا سامنا" اور "دلبر دلبر" شامل ہیں، جو ان کی تحریری صلاحیتوں کا شاہکار ہیں۔

30 اکتوبر 1994ء کو امریکہ میں دماغ کی شریان پھٹ جانے سے دلدار پرویز بھٹی کا انتقال ہو گیا، مگر ان کی تخلیقات اور پروگرام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی کامیاب فنی زندگی اور منفرد انداز کو ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔

ٹیگز: