لاہور : اردو ادب کے عظیم ناول نگار شوکت صدیقی کو مداحوں سے بچھڑے 19 برس گزر گئے۔ وہ 20 مارچ 1923 کو لکھنؤ کے ایک ادبی خاندان میں پیدا ہوئے اور تقسیمِ ہند کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی منتقل ہو گئے۔ شوکت صدیقی کو عہدِ شاز کی ایک اہم شخصیت سمجھا جاتا ہے، اور ان کی زندگی کے کئی پہلو ہیں جو ہر اعتبار سے معتبر ہیں۔
شوکت صدیقی کا پہلا افسانوی مجموعہ "تیسرا آدمی" 1952 میں شائع ہوا تھا، جس کے بعد ان کے دیگر افسانوی مجموعوں میں "اندھیر اور اندھیرا"، "راتوں کا شہر" اور "کیمیاگر" بھی شائع ہوئے۔ ان کی تحریروں نے اردو ادب میں اپنی ایک خاص جگہ بنائی اور ان کے کرداروں میں انسانیت کی گہری عکاسی کی۔
ان کے مشہور ناولز "خدا کی بستی"، "جانگلوس" اور "چار دیواری" نے انہیں عالمی شہرت بخشی۔ ان کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے 1997 میں انہیں "تمغہ برائے حسن کارکردگی" سے نوازا۔
شوکت صدیقی 18 دسمبر 2006 کو کراچی میں انتقال کر گئے، لیکن ان کی تحریریں اور ادبی ورثہ آج بھی اردو ادب میں زندہ ہیں، اور ان کی یادیں ان کے مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ قائم رہیں گی۔