کیلیفورنیا : 30 نومبر کو چیٹ جی پی ٹی کو متعارف کرائے تین سال مکمل ہو گئے، اور اس موقع پر اوپن اے آئی نے اس آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) چیٹ بوٹ کے حوالے سے چند دلچسپ اعداد و شمار شیئر کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ لوگ دنیا کے سب سے زیادہ مقبول اے آئی ٹول کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔
نومبر 2022 میں جب چیٹ جی پی ٹی کو پہلی بار متعارف کرایا گیا تو اس کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے، لیکن آج یہ دنیا کا سب سے مقبول اے آئی چیٹ بوٹ بن چکا ہے۔ اوپن اے آئی کے مطابق، ہر سیکنڈ میں چیٹ جی پی ٹی تقریباً 29 ہزار میسجز کے جوابات دیتا ہے۔ مزید برآں، ہر ہفتے 80 کروڑ افراد چیٹ جی پی ٹی کو مختلف مقاصد جیسے روڈ ٹرپ پلان کرنے سے لے کر سامان کی خریداری تک استعمال کرتے ہیں۔
لوگ چیٹ جی پی ٹی کو کس طرح استعمال کرتے ہیں؟
اوپن اے آئی کے مطابق، تین چوتھائی چیٹس میں عملی رہنمائی، تفصیلات کے حصول، اور لکھنے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ یعنی لوگ اس اے آئی چیٹ بوٹ کو مختلف دفتری امور کے لیے استعمال کرتے ہیں، جیسے کسی تحریر کو درست کرنا یا ترجمہ کرانا وغیرہ۔
اوپن اے آئی نے عالمی سطح پر چیٹ جی پی ٹی کے زیادہ استعمال کے 6 اہم ذرائع کے بارے میں بتایا ہے:
تصاویر کو اپ لوڈ کرنا:
لوگ اپنی تصاویر کو چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کر کے ان کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ فیچر تصویر بنانے کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہے۔
ویب سرچنگ:
چیٹ جی پی ٹی کو مختلف ویب سرچز کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
کسی reasoning ماڈل کا استعمال:
لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے چیٹ جی پی ٹی کے reasoning ماڈلز کا استعمال کرتے ہیں۔
تصاویر بنوانا:
اگرچہ تصویر کو اپ لوڈ کرنا زیادہ مقبول ہے، لیکن اس فیچر کا استعمال بھی کافی بڑھا ہے، خاص طور پر جب لوگ چیٹ جی پی ٹی سے مخصوص تصاویر بنانے کی درخواست کرتے ہیں۔
ڈیٹا کا تجزیہ:
چیٹ جی پی ٹی کو ڈیٹا تجزیہ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کسی رپورٹ کی تفصیلات نکالنا یا کسی ڈیٹا سیٹ کا تجزیہ کرنا۔
ڈکٹیشن:
لوگ چیٹ جی پی ٹی سے تحریری کام کرانے کے لیے ڈکٹیشن (آواز سے تحریر) کا استعمال کرتے ہیں، جہاں وہ اپنے خیالات کو بول کر تحریر میں تبدیل کراتے ہیں۔
چیٹ جی پی ٹی کی مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ روزمرہ زندگی کے مختلف پہلوؤں میں لوگوں کی مدد کر رہا ہے، چاہے وہ تحریری کام ہو، تصاویر کی بہتری ہو، یا ڈیٹا کا تجزیہ ہو۔ یہ واضح کرتا ہے کہ مستقبل میں اے آئی کی مزید پیش رفت کی بدولت ہمیں مزید ذہین اور مؤثر ٹولز مل سکتے ہیں۔