Get Alerts

 اسرائیل کا جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ پر مکمل قبضہ یا فوجی آپریشنز پر غور شروع

 اسرائیل کا جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ پر مکمل قبضہ یا فوجی آپریشنز پر غور شروع

غزہ : اسرائیل نے حالیہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھنے یا مکمل طور پر غزہ پر قبضہ کرنے کے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے امریکی حکام کے ساتھ بات چیت میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ فلسطینی عسکریت پسندوں کو غیر مسلح کرنے کے لئے امریکی حکمت عملی واضح نہیں ہے اور وہ اپنی طاقت بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسرائیل کے فوجی حکام نے امریکی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں تاخیر کی وجہ بتائی ہے، جس میں غزہ میں بین الاقوامی افواج کی تعیناتی اور سویلین حکومت کی تشکیل شامل ہے۔ اسرائیل اس بات پر اصرار کر رہا ہے کہ فلسطینی جنگجوؤں کو غزہ سے نکلنے کی اجازت دی جائے اور انہیں غیر مسلح کیا جائے، جبکہ سابق امریکی انتظام کے تحت فلسطینی جنگجوؤں کو رفح کے علاقے سے نکالنے کی تجویز پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے۔

امریکی سرپرستی میں مصر اور قطر کی معاونت سے طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی افواج غزہ کے تقریباً 55 فیصد حصے پر قابض ہیں، تاہم اسرائیل نے ابھی تک یلو لائن کے پیچھے اپنی فوجی موجودگی کم نہیں کی۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیل اس بات پر بھی اصرار کر رہا ہے کہ غزہ میں مزید فوجی آپریشنز اور جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔

عالمی سطح پر اس بحران کے حل کے لئے متعدد ممالک ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، مگر اسرائیل کی جانب سے اس کے حل میں رکاوٹیں ڈالنے کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔ غزہ میں جنگ بندی اور ممکنہ سویلین حکومت کے قیام کے حوالے سے دونوں طرف کے مؤقف میں واضح اختلافات ہیں، جو اس علاقے میں امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

ٹیگز: