اسلام آباد: صدر مملکت کی جانب سے نو ماہ بعد طلب کیے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی کارروائی گھنٹے بھر کی تاخیر سے شروع ہوئی، جس کے دوران اپوزیشن نے شدید نعرے بازی کی اور اہم بلز پر اپنی تحفظات کا اظہار کیا۔
اجلاس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کر رہے تھے، جب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اقلیتی حقوق کے حوالے سے نیا بل "قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025" پیش کیا۔ بل کے تحت اقلیتی برادری کے حقوق کی بہتر حفاظت کے لیے قانونی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ تاہم، اپوزیشن نے بل کی بعض شقوں پر اعتراضات اٹھائے۔
اقلیتی حقوق کمیشن کی تحریک کے حق میں 160 ووٹ جبکہ مخالفت میں 79 ووٹ پڑے ہیں، تحریک کی پیپلز پارٹی نے حمایت کی لیکن پیپلزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے واک آؤٹ کیا۔پارلیمنٹ کے چوتھے مشترکہ اجلاس میں آج کئی اہم قوانین کی منظوری متوقع ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل2025 پیش کیا اور کہا کہ قرآن و سنت کے منافی کسی قسم کی قانون سازی نہیں ہو سکتی، جے یو آئی کو بھی اس حوالہ سے یقین دہانی کروائی ہے، اس کے باوجود کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے اس کی شق 35کو حذف کر دیا جائے، اس پہ بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ایکٹ غیر ممسلموں کے لیے ہے، آئین پاکستان کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہیں، یہ ہمارے خمیر میں نہیں کہ کسی بھی صورت ایسی قانون سازی ہو جس سے قادیانی فتنے کو ہوا ملے، اقلیتی برادری بھی اتنی ہی محب وطن ہے جتنے ہم ہیں، ہم نے اپنے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے، یہ بل 12 سال سے پینڈنگ ہے، منظور کیا جائے۔
مذہبی جماعت جے یو آئی کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ اقلیتوں کے حقوق کا نہیں، اقلیتوں کے حقوق کیلئے ہم سب کی سوچ ایک جیسی ہے، آپ اس طرح کا قانون کیوں لاتے ہیں جس سے کل کوئی غلط فائدہ اٹھائے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ مختلف معاملہ ہے،قانون کے اوپر قانون کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ وفاقی وزیر کو قادیانیوں کی چالاکیوں کا پتہ نہیں ہے، ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے جس سے ان کو راستہ ملے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اسلام کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی، یہ پارلیمان متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسلام کے خلاف قانون سازی ہو، قادیانیوں کا مسئلہ بہت حساس ہے۔
بیرسٹرگوہر کا مزید کہنا تھا کہ آج اس ایجنڈے میں آپ نے 7قوانین کو منظور کرنا ہے، چاہتے ہیں ایسی قانون سازی ہو کہ جیسے ہماری پروٹیکشن ہوتی ہے ایسی اقلیت کی ہو، آئین میں لفظ مینارٹی نہیں ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ گورنر راج مسائل کا حل نہیں، گورنر راج کے معاملے سے اے این پی کو دور رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گورنر راج کی مخالفت کرتے ہیں، کی ہے اور کرتے رہیں گے، ہم کبھی بھی غیر جمہوری عمل کا ساتھ نہیں دیں گے۔
اس حوالےسے علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ سینیٹ اورقومی اسمبلی کا مشترکہ اجلاس بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، پارلیمنٹ طاقت کا سرچشمہ ہوتی ہے، آج ہم یہاں کچھ لوگوں کو حقوق دینے کیلئے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جمہوریت، قانون اورفیصلہ سازی میں اپوزیشن لیڈر کا نہ ہونا کوئی اچھی بات نہیں، آپ کو اپوزیشن کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ آپ اچانک آئیں اوربل دے دیں، تمام قانون سازی عجلت، جلدبازی میں ہوتی ہے، جس چیز میں ابہام ہووہ آگے نہیں بڑھ سکتی۔
عبدالقادر پٹیل کا کہنا تھا کہ جس بل پر آج ہم بات کررہے ہیں یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کارنامہ تھا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو کافر قراردیا، اپوزیشن کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کوئی بیان نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ ایسے دروازے نہ کھولیں کہ حرمت رسول پر کوئی سوال اٹھے، محمدؐ اورآل محمد کی ناموس پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی اورنہ ہونے دیں گے۔ پیپلپزپارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ مولانا صاحب کی بات کی حمایت کرتا ہوں، یہ کہہ کر وہ ایوان سے باہر چلے گئے۔
ہمارا اقلیتوں کے ساتھ کوئی مسلہ نہیں ہے، قادیانیت اسلام کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں جس کو عوام برداشت نہیں کر سکتے، ہمارا وہی مؤقف ہے جو مولانا فضل الرحمان کا ہے۔
اجلاس کے ایجنڈے میں نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کے قیام کا بل 2023، اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023، اور گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، صحافیوں اور میڈیا ورکز کے تحفظ کے لیے ایک بل پیش کیے جانے کا امکان بھی ہے، اور ممکنہ طور پر اقلیتوں کے حقوق کمیشن کا بل اور پاکستان اینیمل کونسل کا بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔