Get Alerts

یوزر نیم فیچر پر واٹس ایپ کا دوٹوک مؤقف، بھارتی خدشات مسترد

یوزر نیم فیچر پر واٹس ایپ کا دوٹوک مؤقف، بھارتی خدشات مسترد

کیلیفورنیا: واٹس ایپ نے اپنے نئے یوزر نیم فیچر کے حوالے سے بھارتی حکومت کی جانب سے سامنے آنے والے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سہولت کو متعارف کرانے سے قبل صارفین کی سکیورٹی اور جعل سازی کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا چکے ہیں۔

بھارتی حکام نے میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ سے مطالبہ کیا تھا کہ یوزر نیم فیچر کے اجرا سے پہلے یہ واضح کیا جائے کہ کمپنی جعلی اکاؤنٹس اور معروف شخصیات کی شناخت استعمال کرنے والے عناصر کی روک تھام کیسے کرے گی۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ فون نمبر چھپانے کی سہولت فراڈ میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

اس حوالے سے واٹس ایپ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ کمپنی نے فیچر کی تیاری کے دوران ہی ان تمام خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب حفاظتی اقدامات شامل کر لیے تھے۔

ترجمان کے مطابق اس وقت صارفین کو صرف اپنی پسند کا یوزر نیم محفوظ کرنے کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ اس کے ذریعے رابطہ کرنے کا فیچر ابھی فعال نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سہولت رواں سال مرحلہ وار تمام صارفین کے لیے متعارف کرائی جائے گی۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کی شناخت کی نقل یا جعل سازی روکنے کے لیے معروف شخصیات، فنکاروں، میٹا کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس، سرکاری اداروں اور دیگر اہم شخصیات کے نام صرف انہی کے لیے مخصوص رکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ واٹس ایپ نے 30 جون کو یوزر نیم فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر کمپنی نے کہا تھا کہ مشہور شخصیات اور اعلیٰ سرکاری حکام کے نام عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے تاکہ دھوکا دہی اور شناخت کی چوری جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔

میٹا کے مطابق نئے فیچر کے تحت صارفین کے فون نمبرز ہر صورت میں دوسروں کے ساتھ خودکار طور پر شیئر نہیں ہوں گے۔ مثال کے طور پر کسی واٹس ایپ گروپ میں شامل ہونے یا پہلی مرتبہ کسی فرد یا ادارے سے رابطہ کرنے کے دوران بھی نمبر پوشیدہ رکھا جا سکے گا۔

کمپنی نے مزید بتایا کہ یوزر نیم منتخب کرنے کے بعد کوئی بھی شخص اسی صورت میں رابطہ کر سکے گا جب اسے متعلقہ صارف کا درست یوزر نیم معلوم ہوگا۔

ٹیگز: