Get Alerts

ایران کی بڑی سفارتی پیش رفت: شرائط میں نرمی، پاکستان میں امریکی حکام سے مذاکرات کی پیشکش

ایران کی بڑی سفارتی پیش رفت: شرائط میں نرمی، پاکستان میں امریکی حکام سے مذاکرات کی پیشکش

نیویارک/واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل چھٹنے کے امکانات روشن ہو گئے۔ امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اپنی شرائط میں غیر معمولی نرمی کر دی ہے اور پاکستان کے ذریعے واشنگٹن کو 14 نکاتی تجاویز ارسال کر دی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے آمادگی ظاہر کی ہے کہ امریکی رضامندی کی صورت میں وہ آئندہ ہفتے پاکستان میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہے۔ تہران کی جانب سے پاکستان کو اس اہم سفارتی مشن کے لیے منتخب کرنا خطے میں اسلام آباد کے کلیدی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران کی جانب سے بھیجی گئی نئی تجاویز میں کئی دہائیوں پرانی سخت شرائط میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ایران نے اپنا یہ دیرینہ مطالبہ واپس لے لیا ہے کہ مذاکرات سے قبل معاشی ناکہ بندی فوری ختم کی جائے۔ ایران نے تجویز دی ہے کہ اگر امریکہ پابندیوں میں نرمی کرتا ہے تو وہ جوہری امور پر (مستقبل میں) گفتگو کے لیے تیار ہے۔ ایران نے فی الحال اپنے میزائل پروگرام اور جوہری پروگرام کو ابتدائی بات چیت سے باہر رکھنے کی شرط رکھی ہے، تاہم ان پر بعد میں بات کرنے کا آپشن کھلا رکھا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو خط لکھ کر ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی ختم ہونے کی نوید سنائی ہے۔ دوسری جانب امریکی ایوان آج اس بات کا فیصلہ کرے گا کہ صدر کو ایران کے حوالے سے مزید جنگی اختیارات دیے جائیں یا نہیں۔
وال سٹریٹ جرنل کی یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ایران اب براہِ راست تصادم کے بجائے سفارتی حل کی طرف راغب ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ممکنہ مذاکرات کی خبر نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس سے خطے میں پائیدار امن کی امیدیں وابستہ ہو گئی ہیں۔

ٹیگز: