اسلام آباد :وفاقی وزیر خزانہ کی زیر صدارت مالیاتی شعبے میں سائبر سیکیورٹی کی صورتحال پر ایک اہم ورچوئل اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک کے بینکنگ سیکٹر اور ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹمز کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
نمائندہ نیونیوز توصیف عباسی کے مطابق اجلاس کے دوران حکام نے انکشاف کیا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے لیس سائبر حملے پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ ہیکرز جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل بینکنگ سسٹمز کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے لیے ہمیں اپنے دفاعی نظام کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
وزیر خزانہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کو درج ذیل اہم ہدایات جاری کیں۔ تمام مالیاتی اداروں کے موجودہ سیکیورٹی پروٹوکولز کا فوری آڈٹ کیا جائے اور پرانے سسٹمز (Legacy Systems) کی کمزوریوں کو دور کیا جائے۔ سائبر خطرات کے خلاف فوری، درمیانی اور طویل مدتی منصوبے تشکیل دیے جائیں۔
اجلاس میں جاپان اور بھارت میں ہونے والے حالیہ سائبر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کو ان واقعات سے سبق سیکھ کر اپنے انفراسٹرکچر کو محفوظ بنانا چاہیے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مالیاتی انفراسٹرکچر کا تحفظ براہ راست معاشی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ ریگولیٹرز اور مالیاتی اداروں کے درمیان سائبر خطرات سے متعلق معلومات کے فوری تبادلے کو یقینی بنانے کے لیے میکانزم بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کے مباحث میں فعال شرکت جاری رکھے گا تاکہ جدید ترین ٹیکنالوجی اور مہارت تک رسائی حاصل کی جا سکے۔اجلاس کے اختتام پر تمام شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بینکنگ سیکٹر میں عوامی اعتماد برقرار رکھنے کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔