تہران/تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جہاں ایران نے اسرائیل پر میزائلوں کی برسات کر دی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اسرائیل کا جدید ترین دفاعی نظام ایرانی حملوں کو روکنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں تل ابیب سمیت کئی علاقوں میں شدید دھماکے اور تباہی کی اطلاعات ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق، ایرانی میزائلوں نے اسرائیلی شہروں کے وسطی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ میزائل گرنے کے فوراً بعد زوردار دھماکے ہوئے اور کئی مقامات پر ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا نام نہاد ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کی رفتار اور تعداد کا مقابلہ کرنے میں بے بس نظر آیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔
پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بحریہ نے قیشم جزیرے کے قریب دشمن کا ایک جدید ترین لڑاکا طیارہ مار گرایا ہے۔ ترجمان کے مطابق، اس طیارے کو ایران کے جدید نیول ایئر ڈیفنس سسٹم نے ہدف بنایا۔ یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب مذکورہ طیارہ ایرانی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کر رہا تھا۔
کشیدگی اس وقت عالمی سطح پر پہنچ گئی جب ایران کی جانب سے سمندر میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے 'ابراہم لنکن' پر کروز میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، یہ حملہ دشمن کی جارحیت کا بھرپور جواب ہے۔ امریکی بیڑے پر ہونے والے اس حملے نے خطے میں عالمی طاقتوں کے درمیان براہِ راست تصادم کے خطرات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ محض ایک آغاز ہے اور اگر اسرائیل یا اس کے اتحادیوں نے کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کی، تو ایران کا اگلا قدم اس سے کئی گنا زیادہ تباہ کن ہوگا۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے دفاعی نظام کی ناکامی اور امریکی بحری بیڑے کو براہِ راست نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ خطہ ایک ہمہ گیر جنگ کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی امن کے حوالے سے شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔