تہران/تل ابیب : مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ ایران نے اپنی قیادت پر حملوں کا بدلہ لینے کے لیے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی ٹھکانوں پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے ہولناک بمباری کی ہے، جس میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان کی اطلاعات ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور فوج کے ترجمان نے سرکاری میڈیا پر جاری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ کویت اور بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو سینکڑوں میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز "ابراہام لنکن" کو 4 گائیڈڈ میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس سے جہاز کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق، بحرین میں امریکی بحری بیڑے (5th Fleet) کے ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے حملے انتہائی مہلک ثابت ہوئے ہیں، جہاں سینکڑوں فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندر بھی ایرانی بمباری نے تباہی مچا دی ہے. ایرانی میزائلوں نے بیت شیمش میں ایک کثیر المنزلہ عمارت کو نشانہ بنایا۔ جانی نقصان: حملے کے نتیجے میں 9 اسرائیلی ہلاک اور 20 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی ریسکیو ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
ایران کی اس جوابی کارروائی نے صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں کو چیلنج کر دیا ہے کہ ایرانی عسکری قیادت ختم ہو چکی ہے۔ اس نئی پیش رفت کے بعد خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔
پاکستان سمیت ایشیائی اور یورپی مارکیٹس میں شدید مندی کا رجحان ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں کو ایک طویل علاقائی جنگ کا خدشہ ہے۔
"اگر طیارہ بردار بحری جہاز پر حملے کی تصدیق ہو جاتی ہے، تو یہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ کے لیے سب سے بڑا فوجی دھچکا ہوگا، جس کا انجام ایٹمی تصادم کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔"