Get Alerts

معروف پنجابی شاعر استاد دامن کو مداحوں سے بچھڑے 37 برس بیت گئے

 معروف پنجابی شاعر استاد دامن کو مداحوں سے بچھڑے 37 برس بیت گئے

لاہور : آج سے 37 برس قبل، 3 دسمبر 1984ء کو پاکستان کے معروف پنجابی شاعر استاد دامن ہم سے جدا ہو گئے، مگر ان کی شاعری اور نظریات آج بھی زندہ ہیں۔ استاد دامن، جو مزدوروں، کسانوں، غریبوں اور مظلوموں کے شاعر کہلاتے تھے، نے ہمیشہ پسے ہوئے طبقے کا ساتھ دیا اور اپنی شاعری کے ذریعے ان کی آواز بنے۔

استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا، اور ان کی شاعری کا دائرہ وسیع تھا۔ وہ فارسی، سنسکرت، عربی اور اردو زبانوں کے ماہر تھے اور عالمی ادب پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ ان کی سادہ زندگی، بے نیازی اور جرأتِ اظہار نے انہیں ایک منفرد مقام عطا کیا۔ چھوٹے سے کمرے میں کتابوں کے درمیان گزارا جانے والا ان کا وقت اور مصلحت سے پاک زندگی کا طرز، ان کی شخصیت کی خاصیت بن گیا تھا۔

استاد دامن کی شاعری میں جبر و ناانصافی کے خلاف ایک آواز تھی، جس میں لوگوں کے حقوق کی بات کی گئی۔ ان کی شاعری نے فیض احمد فیض اور جالب کی طرح عوام میں شعور بیدار کرنے کا کام کیا۔ وہ ہمیشہ سچ اور حق کا ساتھ دیتے رہے، اور ان کا یہ موقف ان کی شاعری میں صاف دکھائی دیتا ہے۔

پنجابی ادب میں ان کا نام ہمیشہ عزت و احترام سے لیا جائے گا۔ استاد دامن نے لاہور میں اپنے والد کے ساتھ خیاطی کا کام سیکھا اور اس میں مہارت حاصل کی۔ اگرچہ انہوں نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی، مگر والد کے انتقال کے بعد زندگی کا رُخ بدل گیا اور وہ شاعری کی دنیا میں اپنے قدم جما گئے۔

آج استاد دامن کو یاد کیا جا رہا ہے، اور ان کی شاعری کی تاثیر اور پیغام آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ وہ 3 دسمبر 1984ء کو لاہور میں وفات پا گئے اور مادھولال حسین کے مزار کے احاطے میں دفن کیے گئے۔ ان کی شاعری ہمیشہ نسلوں تک منتقل ہوتی رہے گی، اور ان کا کردار ہمیشہ ادب کے ایک روشن ستارے کی مانند چمکتا رہے گا۔

ٹیگز: