Get Alerts

خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں کی واپسی سست، 43 ڈی نوٹیفائیڈ کیمپ بدستور فعال

خیبرپختونخوا میں افغان باشندوں کی واپسی سست، 43 ڈی نوٹیفائیڈ کیمپ بدستور فعال

پشاور: وفاقی حکومت کی جانب سے غیر قانونی افغان باشندوں کی وطن واپسی کے لیے متعارف کرائے گئے Illegal Foreigner Repatriation Plan (IFRP) کے تحت ملک بھر میں مرحلہ وار واپسی جاری ہے، تاہم خیبرپختونخوا میں یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔

IFRP کے فیز 3 کے نفاذ کے بعد ملک بھر میں 54 افغان مہاجر کیمپوں کو قانونی طور پر غیر فعال قرار دیا گیا، جن میں سے 43 کیمپ خیبرپختونخوا، 10 بلوچستان اور 1 پنجاب میں تھے۔ پنجاب اور بلوچستان میں پالیسی پر فوری عمل درآمد ہوا اور پیش رفت بھی سامنے آئی، جبکہ خیبرپختونخوا میں صرف دو کیمپوں سے افغان شہریوں کی واپسی ممکن ہو سکی ہے، اور باقی کیمپ بدستور فعال ہیں۔

صوبائی حکومت ان کیمپوں میں رہائش پذیر افغان باشندوں کو بجلی، پانی، صحت اور دیگر سہولیات فراہم کر رہی ہے، جس سے نہ صرف صوبے کے محدود وسائل پر بوجھ پڑ رہا ہے بلکہ قانون کی کمزور گرفت اور صوبائی حکومتی کمزوری بھی عیاں ہو گئی ہے۔ مزید تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور اس میں ملوث افغان باشندوں کے شواہد بھی موجود ہیں۔

وفاقی حکومت کی واضح ہدایات کے باوجود صوبائی حکومت IFRP پر بروقت اور مؤثر عمل درآمد میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

ٹیگز: