اسلام آباد: قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف 3 اور 4 فروری کو پاکستان کے سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے۔ یہ ان کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، جو وزیرِ اعظم شہباز شریف کی خصوصی دعوت پر کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق، صدر توکایف اپنے دورے کے دوران صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے ملاقات کریں گے، جبکہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی مذاکرات ہوں گے۔ ان ملاقاتوں میں تجارتی روابط، لاجسٹکس، علاقائی رابطہ کاری اور دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے دیگر پہلوؤں پر بات چیت کی جائے گی۔
صدر توکایف اپنے دورے کے دوران پاکستان قازقستان بزنس فورم سے بھی خطاب کریں گے، جس میں دونوں ممالک کے تاجر، سرمایہ کار اور کاروباری رہنما شریک ہوں گے۔ اس فورم کا مقصد تجارتی روابط کو فروغ دینا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنا ہے۔
قازقستان کے صدر کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی پاکستان آئے گا، جس میں سینئر کابینہ اراکین اور اعلیٰ سرکاری افسران شامل ہوں گے۔ یہ وفد مختلف شعبوں میں تعاون کو عملی شکل دینے پر بات کرے گا۔
قازقستان کے صدر کا یہ دورہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کا جامع جائزہ لینے کا اہم موقع فراہم کرے گا۔ مذاکرات میں تجارتی حجم کو بڑھانے، لاجسٹکس کے شعبے میں تعاون، اور دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو فروغ دینے پر بھی بات کی جائے گی۔
اس دورے کے فوراً بعد، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف بھی 5 اور 6 فروری کو پاکستان کا دورہ کریں گے، جس میں پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے اہم مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے تجارتی حجم کو آئندہ برسوں میں 2 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے۔
ان دونوں دوروں سے پاکستان کو وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارتی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا موقع ملے گا، جو ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔