Get Alerts

تاریخی سفارتی مشن: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس اور ایرانی وفد آج اسلام آباد پہنچیں گے

تاریخی سفارتی مشن: ایران امریکہ مذاکرات کے لیے جے ڈی وینس اور ایرانی وفد آج اسلام آباد پہنچیں گے

اسلام آباد: عالمی سیاست کے میدان میں پاکستان ایک بار پھر مرکزِ نگاہ بن گیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور اعلیٰ ایرانی قیادت پر مشتمل وفود آج رات وفاقی دارالحکومت پہنچ رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے ایک طاقتور وفد پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ان کے ہمراہ مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اسٹیو وٹکوف اور سابق سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ امریکی ٹیم کی معاونت کے لیے 23 رکنی سکیورٹی اور سفارتی عملہ پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بھی اس مذاکراتی عمل کو انتہائی اہمیت دی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی آج رات اسلام آباد پہنچیں گے۔ اس حوالے سے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی وزیراعظم کو اعتماد میں لیتے ہوئے مذاکرات کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ذرائع کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہفتے کی صبح ہوگا۔ ان مذاکرات میں درج ذیل نکات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

تجارتی راستوں کی بحالی: آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کی بحالی۔ایرانی مطالبات: ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی فارمولے پر بحث، جس میں معاشی پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب، چین اور دیگر اہم ممالک کے وفود کی آمد بھی متوقع ہے، جو مبصر کے طور پر اس عمل کا حصہ بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد مذاکرات میں کوئی بریک تھرو (کامیابی) حاصل ہو جاتی ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان کی بڑی سفارتی فتح ہوگی بلکہ مشرق وسطیٰ کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کا باعث بھی بنے گی۔

ٹیگز: