اسلام آباد: دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ ان کی آمد کو مشرقِ وسطیٰ میں امن اور امریکہ ایران تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
نور خان ایئر بیس پر جے ڈی وینس کا استقبال پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا۔ اس موقع پر امریکی وفد کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا اور سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات دیکھنے میں آئے۔نائب صدر کے ہمراہ صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں کی اہم شخصیات بھی شامل ہیں، جو اس دورے کی حساسیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
جے ڈی وینس کی آمد کے ساتھ ہی اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ ایران کا وفد پہلے ہی اسلام آباد میں موجود ہے، اور اطلاعات کے مطابق جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایرانی حکام سے براہِ راست یا 'پروکسی میٹیڈ' مذاکرات کرے گا۔ اولین ترجیح خطے میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور قیدیوں کا تبادلہ ہے۔امریکی نائب صدر پاکستانی حکام سے بھی ملاقات کریں گے جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ساتھ خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوگا۔
عالمی میڈیا اس دورے کو "اسلام آباد سمٹ 2026" کا نام دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کا خود چل کر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ اس بار ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے میں سنجیدہ ہے۔