Get Alerts

کراچی : ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار، فائرنگ اور تصادم میں کئی زخمی، آپریشن جاری

کراچی : ملیر جیل سے 200 سے زائد قیدی فرار، فائرنگ اور تصادم میں کئی زخمی، آپریشن جاری

کراچی :  کراچی کے علاقے ملیر میں گزشتہ روز آنے والے زلزلے کے جھٹکوں کے دوران ملیر جیل سے 216 قیدی دیواریں توڑ کر فرار ہو گئے۔ واقعے کے دوران قیدیوں نے سیکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر شدید فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک قیدی ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے، جبکہ تین ایف سی اہلکار اور دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد پولیس، رینجرز اور ایف سی نے علاقے کو گھیرے میں لے کر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ اب تک 80 فرار قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ 9 مشتبہ افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً 500 سے 600 قیدیوں نے فرار کی کوشش کی، جن میں سے 200 سے زائد کامیاب ہوئے۔

وزیر جیل سندھ، علی حسن زرداری نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے آئی جی جیل اور ڈی آئی جی جیل سے رپورٹ طلب کی ہے اور ملیر جیل کے اطراف علاقے کو کارڈن آف کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’فرار ہونے والے قیدی ہر حال میں گرفتار کیے جائیں گے، اور واقعے میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔‘‘

وزیر داخلہ سندھ، ضیاءالحسن لنجار نے بھی جیل کا ہنگامی دورہ کیا اور ایس ایس پی ملیر کو فوری کارروائی کے احکامات دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’متاثرہ جیل میں قیدیوں کی گنتی اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ذریعے فرار قیدیوں کو تلاش کیا جا رہا ہے۔‘‘ ڈی جی رینجرز سندھ، میجر جنرل محمد شمریز بھی موقع پر پہنچے اور جیل حکام سے تفصیلی بریفنگ لی۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر چھیپا ایمبولینس کے ذریعے نجی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

کراچی میں اس واقعے کے بعد پولیس کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور شہر بھر میں سیکیورٹی گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ ملیر جیل کے اندر اور باہر صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے رینجرز، پولیس، اور ایف سی کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام مفرور قیدی دوبارہ گرفتار نہیں ہو جاتے۔

ٹیگز: