ماسکو: روس اور یوکرین کے درمیان جاری امن مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کا اختتام کسی ٹھوس امن معاہدے کے بغیر ہو گیا، تاہم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کچھ اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق مذاکرات میں دونوں ممالک نے قیدیوں کے تبادلے، ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشوں کی واپسی اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی سے متعلق مختلف تجاویز پر غور کیا۔ یوکرینی وزیر دفاع نے اعلان کیا کہ روس اور یوکرین کے درمیان 6 ہزار ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشوں کی حوالگی پر اتفاق ہو گیا ہے، جب کہ شدید بیمار اور 25 سال سے کم عمر قیدیوں کے تبادلے پر بھی دوطرفہ رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔
یوکرینی وفد کی جانب سے مذاکرات میں 30 روزہ غیر مشروط جنگ بندی کی تجویز پیش کی گئی، تاہم روسی حکام نے اسے مسترد کر دیا۔ روسی وفد نے اس کے برعکس مخصوص علاقوں میں تین روزہ عارضی جنگ بندی کی تجاویز دیں تاکہ انسانی امداد کی راہ ہموار کی جا سکے۔
یوکرین نے زور دیا ہے کہ دیرپا امن کے لیے اعلیٰ سطح پر براہ راست بات چیت ضروری ہے۔ روسی حکام نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ اگر یوکرینی بچوں کے والدین یا قانونی سرپرست دستیاب ہوں تو ان بچوں کو یوکرین واپس بھیجا جا سکتا ہے۔
دونوں فریقین نے امن تصفیے کی ممکنہ شرائط پر مبنی یادداشتوں کا تبادلہ کیا ہے، تاہم مذاکرات کا یہ دور کسی باضابطہ جنگ بندی یا سیاسی معاہدے پر منتج نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک شدہ فوجیوں کی لاشیں آئندہ ہفتے یوکرین کے حوالے کر دی جائیں گی۔