Get Alerts

ایلون مسک کا پرفارمنس پیکیج عدالت میں چیلنج، تنخواہ نہ ملنے کا سلسلہ جاری

ایلون مسک کا پرفارمنس پیکیج عدالت میں چیلنج، تنخواہ نہ ملنے کا سلسلہ جاری

نیویارک : دنیا کے امیر ترین شخص سمجھے جانے والے ایلون مسک کو ان کی کمپنی ٹیسلا کی جانب سے سال 2024 میں بطور چیف ایگزیکٹو تنخواہ یا کسی قسم کا مالی معاوضہ نہیں دیا گیا۔ حیران کن طور پر، یہ رجحان صرف حالیہ نہیں بلکہ گزشتہ سات برسوں سے جاری ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق، ایلون مسک کو کئی سالوں سے ٹیسلا کی طرف سے کوئی تنخواہ، بونس یا مراعات نہیں دی جا رہیں۔ اس غیرمعمولی صورتحال کی وجہ ایک قانونی مقدمہ ہے جو 2018 میں دائر کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ ایلون مسک نے خود اپنی تنخواہ کا منصوبہ تیار کیا، جو مفادات کے ٹکراؤ اور قانونی اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔


ٹیسلا نے 2018 میں ایلون مسک کے لیے 56 ارب ڈالر کا معاوضہ پیکج منظور کیا تھا، تاہم ڈیلاوئیر کی عدالت نے اسے دو بار مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیکج غیر شفاف طریقے سے تیار کیا گیا۔ عدالت کے مطابق، کمپنی کے بورڈ نے اس منصوبے کی تفصیلات شیئر ہولڈرز سے چھپائیں اور مناسب قانونی عمل اختیار نہیں کیا گیا۔


رپورٹ کے مطابق، 2023 میں S&P 500 کی فہرست میں شامل تمام کمپنیوں کے سی ای اوز میں ایلون مسک سب سے کم معاوضہ لینے والے چیف ایگزیکٹو رہے۔ ایک سرمایہ کار نے جب اس بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کی، تو ایلون مسک نے خود اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا:"مجھے پچھلے سات سالوں میں ایک پیسہ بھی تنخواہ کے طور پر نہیں ملا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیسلا کی مارکیٹ ویلیو میں سات سال کے دوران 2000 فیصد اضافہ ہوا، مگر اس کے باوجود انہوں نے بطور سی ای او کوئی تنخواہ یا پیکیج حاصل نہیں کیا۔


اس قانونی چیلنج کی بنیاد ریچرڈ ٹورنیٹا (Richard Tornetta) نامی ایک ٹیسلا سرمایہ کار نے رکھی، جنہوں نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مسک کا تنخواہ پلان خودساختہ اور غیر شفاف تھا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا کہ ایلون مسک کی تنخواہ منظوری کا عمل قواعد و ضوابط سے متصادم تھا۔

یاد رہے کہ ایلون مسک ٹیسلا کے 13 فیصد حصص کے مالک ہیں، اور ان کی دولت کا بڑا حصہ اسی کمپنی کی اسٹاک ویلیو سے وابستہ ہے، نہ کہ کسی باقاعدہ تنخواہ یا بونس سے۔

ٹیگز: