Get Alerts

امریکی پالیسی پر سینیٹ میں کڑی تنقید: "ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی، امریکہ ڈیل کی بھیک کیوں مانگ رہا ہے؟" سینیٹر کوری بُکر کا مارکو روبیو سے تیکھا سوال

امریکی پالیسی پر سینیٹ میں کڑی تنقید:

واشنگٹن :خلیجِ فارس میں جاری سنگین فوجی کشیدگی کے سائے میں امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کا شکار ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے ایران کے معاملے پر امریکی بے بسی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود امریکہ ایک ایسی ڈیل کے لیے کیوں گڑگڑا رہا ہے جسے واشنگٹن خود ماضی میں ناکارہ قرار دے کر کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا ہے۔
سینیٹ کمیٹی کے سامنے اپنے جارحانہ بیان میں سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ     ایران نے دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند کر کے امریکہ کی عالمی بالادستی کو چیلنج کر رکھا ہے، لیکن امریکی حکومت کوئی ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام نظر آتی ہے۔
    انہوں نے مائیکرو فون پر گرجتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا بار بار ایران کے سامنے مذاکرات کی پوزیشن میں آنا خطے میں ہمارے اتحادیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچا رہا ہے۔امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹر کوری بُکر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے انتظامیہ کے مؤقف کا دفاع کیا۔ انہوں نے سینیٹ کو بتایا کہ    ایران کے ایٹمی پروگرام کو روکنا اور اس کے ساتھ معاہدہ کرنا کوئی سادہ سیاسی بیانیہ نہیں، بلکہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور تکنیکی (Technical) معاملہ ہے۔
    مارکو روبیو نے واضح کیا کہ یہ بحران پانچ دن میں حل نہیں کیا جا سکتا۔ ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے دونوں ممالک کے ماہرین اور سائنسدانوں کی میٹنگز تین ماہ یا اس سے بھی زیادہ عرصے تک طویل ہو سکتی ہیں، اس لیے سفارت کاری کو وقت دینا ہوگا۔
 یہ تند و تیز بحث ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیج میں ایران اور امریکہ کے درمیان میزائلوں اور ڈرونز کا براہِ راست تبادلہ ہو رہا ہے، اور واشنگٹن کے سیاسی حلقے اس بات پر منقسم دکھائی دیتے ہیں کہ ایران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے یا طویل سفارتی مذاکرات کا راستہ چنا جائے۔

ٹیگز: