واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی دفاعی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور تہران اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین معاشی و عسکری بحران سے گزر رہا ہے۔
فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے انکشاف کیا کہ ایران کے سفارتی مذاکرات کار امریکہ کے ساتھ ڈیل کرنے اور موجودہ کشیدگی ختم کرنے کے حق میں ہیں، لیکن ایرانی حکومتی قیادت میں شدید "ٹوٹ پھوٹ" ہے جو کسی بھی معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تہران کی قیادت محض وقت ضائع کرنا چاہتی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران کی فوجی طاقت کے حوالے سے چونکا دینے والے دعوے کیے۔ ایران کے میزائلوں کا ذخیرہ 50 فیصد کم ہو چکا ہے اور ان کی فیکٹریاں اب فعال نہیں رہیں۔ ایران کے پاس اب نہ تو موثر فضائیہ بچی ہے اور نہ ہی نیوی میں مقابلے کی سکت ہے۔ ملک قحط سالی اور شدید مہنگائی کی لپیٹ میں ہے، یہاں تک کہ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینا بھی تہران کے لیے ناممکن ہو گیا ہے۔
مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے بجائے اب اپنے تیل کو دنیا کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے تاکہ عالمی برادری کو یرغمال بنا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ رویہ کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
مستقبل کی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے روبیو کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اگر ایران نے مذاکرات کا راستہ اختیار نہ کیا تو تہران پر اقتصادی پابندیوں کا بوجھ اس حد تک بڑھا دیا جائے گا جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔