Get Alerts

طالبان حکومت میں بڑی دراڑ: بدخشاں کے معدنی وسائل پر کابل اور مقامی کمانڈر آمنے سامنے، امیر ہیبت اللہ کا باغیوں کی فوری گرفتاری کا حکم

طالبان حکومت میں بڑی دراڑ: بدخشاں کے معدنی وسائل پر کابل اور مقامی کمانڈر آمنے سامنے، امیر ہیبت اللہ کا باغیوں کی فوری گرفتاری کا حکم

کابل:افغانستان میں طالبان انتظامیہ کو شدید ترین داخلی بحران کا سامنا ہے، جہاں صوبہ بدخشاں کے مقامی کمانڈروں نے مرکزی قیادت کے خلاف عملاً بغاوت کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے بعد طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے امارتِ اسلامیہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ایک ہنگامی کمانڈ جاری کی ہے، جس کے تحت بغاوت کی راہ اختیار کرنے والے تمام مقامی طالبان کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
    معدنی وسائل پر تنازع: باوثوق ذرائع کے مطابق، بدخشاں کے قیمتی معاشی اور معدنی وسائل پر قبضے اور ان کی آمدنی کی تقسیم کے معاملے پر مرکزی قیادت اور مقامی کمانڈروں کے مابین اختلافات اب عوامی سطح پر آ چکے ہیں۔
 بدخشاں میں حالیہ دنوں میں ہونے والی عوامی بغاوت اور انتظامیہ کے خلاف مظاہروں کے بعد، مقامی طالبان کمانڈروں نے کابل کے احکامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے مظاہرین پر طاقت کے استعمال کی مخالفت کی تھی۔
مرکزی قیادت نے اس نافرمانی کو تحریک کی بقا کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ ملا ہیبت اللہ کے نئے حکم نامے کے مطابق
    کسی بھی مقامی کمانڈر یا دھڑے کو امارتِ اسلامیہ کی رِٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔    وفاداری تبدیل کرنے یا بغاوت کو ہوا دینے والے عناصر کے خلاف فوری فوجی ایکشن لیا جائے گا۔
 بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بدخشاں کا حالیہ بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ طالبان کے اندر مالیاتی وسائل اور علاقائی طاقت کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے۔ کابل کی جانب سے طاقت کے ذریعے اس بغاوت کو کچلنے کی کوشش افغانستان کے شمالی حصوں میں ایک نئے مسلح تصادم کو جنم دے سکتی ہے۔

ٹیگز: