واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر سے ممکنہ ملاقات کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر منحصر ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اس وقت ایران کی قیادت کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے، اور آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے ملاقات “کسی بھی وقت ممکن ہو سکتی ہے”، لیکن اس کا انحصار حالات کی پیش رفت پر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت کے مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں، تاہم صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور اس میں کسی بھی وقت تبدیلی ممکن ہے۔
اسی انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بھی تصدیق کی کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ایک ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سخت اور برہم انداز میں بات کی تھی، کیونکہ وہ لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں سے نالاں تھے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کال کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور مبینہ طور پر انہیں “پاگل” اور “ناشکرا” بھی قرار دیا۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے، اور اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ایران میں زمینی فوج بھیجنے کی کوئی ضرورت نہیں، اور خطے کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے جس کے مثبت نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔