لندن/نیویارک :مشرقِ وسطیٰ میں جنگی بادل منڈلانے اور ایران، امریکہ تصادم کے باعث عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز بھی تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسٹریٹ آف ہرمز (Strait of Hormuz) میں بڑھتے ہوئے خطرات نے دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی لائن متاثر ہونے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔
آج ٹریڈنگ کے دوران خام تیل کی قیمتیں درج ذیل سطح پر پہنچ گئیں۔ برینٹ کروڈ آئل: 79.44 ڈالر فی بیرل، یو ایس ویسٹ ٹیکساس (WTI): 72.40 ڈالر فی بیرل۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، قیمتوں میں اس اضافے کی بنیادی وجہ جغرافیائی و سیاسی (Geopolitical) تناؤ ہے۔ سٹریٹ آف ہرمز کا خطرہ: ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ کو بند کیے جانے کے خدشے نے عالمی مارکیٹ میں کھلبلی مچا دی ہے۔ دنیا کی کل پیٹرولیم تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی کم نہ ہوئی، تو ایران جوابی کارروائی کے طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے (Energy Infrastructure) کو نشانہ بنا سکتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم نے خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔