اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی اجلاس میں واضح کیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے غزہ امن معاہدے کے 20 نکات پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک کے موقف کی عکاسی نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ ڈرافٹ نہیں جو مسلم ممالک نے تیار کیا تھا، بلکہ اس میں غیر منظوری شدہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر قائد اعظم محمد علی جناح کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور مسئلہ فلسطین پر سیاست کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قوم کی بھرپور نمائندگی کی اور کشمیریوں سمیت فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کیا۔
وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی ناکامیوں کو بھی واضح کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ، یورپی یونین اور عرب ممالک غزہ میں خونریزی روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک نے امریکی صدر سے ملاقات کے ذریعے مسئلہ غزہ کی طرف عالمی توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ غزہ میں مکمل جنگ بندی اور اس کی تعمیر نو ضروری ہے، یہ اسلامی ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے رابطے کی تردید کی اور بتایا کہ کئی پاکستانیوں سمیت سینیٹر مشتاق احمد کو اسرائیل نے تحویل میں لے رکھا ہے جن کی رہائی کے لیے بااثر یورپی ممالک سے رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پی ڈی ایم دور میں شروع ہوا اور موجودہ حکومت نے اسے مکمل کیا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے پاکستان کو خادم الحرمین الشریفین کا اعزاز حاصل ہوا ہے، جو پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ معاہدہ کرنے کے بعد دیگر ممالک نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے اور یہ خطہ مسلم امہ کے اتحاد کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت کے بعد معاشی قوت بھی بننے جا رہا ہے۔
اجلاس کو پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔