راولپنڈی:شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف ایک کامیاب اور بڑی کارروائی کرتے ہوئے 8 خوارج کو جہنم واصل کر دیا ہے۔ اس آپریشن کی سب سے اہم کڑی ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی شناخت ہے، جس نے افغان طالبان کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے یکم اپریل کو خفیہ اطلاع ملنے پر دتہ خیل میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پر دھاوا بولا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 8 دہشت گرد مارے گئے، جن کے قبضے سے جدید اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔
تحقیقات اور شناخت کے عمل کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والے 8 میں سے 2 خوارج افغان شہری ہیں۔ ان غیر ملکی دہشت گردوں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سرحد پار سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔اس واقعے نے افغان طالبان رجیم کے ان تمام دعوؤں کو جھوٹ ثابت کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیتے۔ افغان شہریوں کی دراندازی اور دہشت گردانہ کارروائیوں میں براہِ راست شمولیت نے کابل انتظامیہ کے "عدم سرپرستی" کے بیانیہ پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ فتنہ الخوارج کو سرحد پار سے نہ صرف افرادی قوت فراہم کی جا رہی ہے بلکہ انہیں مکمل سہولت کاری بھی میسر ہے۔ پاک فوج نے عزم دہرایا ہے کہ مادرِ وطن کی حدود میں کسی بھی غیر ملکی مداخلت اور دہشت گردی کا جواب آہنی ہاتھوں سے دیا جائے گا۔