اسلام آباد: نوازشریف کے بعد بلاول بھٹو بھی عدلیہ سے ناراض ہوگئے۔وزیراعلیٰ سندھ کو سپریم کورٹ میں بلانے پر برہم ہو گئے ۔کہتے ہیں پانی کا بحران پورے ملک میں ہے۔یہ صرف سندھ کا مسئلہ نہیں ہمیشہ سندھ کو ہی نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟
Water is not just a Sindh issue. While we beat the drum of CPEC in Balochistan many areas have no access to water. South Punjab has its own water issues as does southern KPK. Islamabad even has water access problems.What have other provinces done? Why is Sindh always singled out?
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) December 4, 2017
ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ سی پیک کے بعد بھی بلوچستان کے کئی علاقوں میں پانی تک رسائی نہیں۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے جنوبی علاقوں حتیٰ کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی پانی کے مسائل ہیں۔ اپنی ٹویٹ میں انہوں نے سندھ حکومت کی تعریفوں کے بھی پل باندھ دیئے ۔
1 of biggest crisis affecting all of Pakistan is water. The Sindh Govt has taken practical steps to address this from investing in the most RO plants across the province, linging of our canals and construction of damns. I’m glad CM will get a chance to present our case in SC. 1/2
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) December 4, 2017
ٹویٹ کیا کہ سندھ حکومت نے صاف پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے ہیں۔ سندھ بھر میں آراو پلانٹس میں سرمایہ کاری کی گئی ۔نہروں کو پختہ کیا گیا اور نئے ڈیم بھی بنائے گئے ہیں۔ خوشی ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو اپنا مقدمہ سپریم کورٹ کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملے گا۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو سندھ میں صاف پانی کی فراہمی کے مسئلے پر طلب کیا ۔سپریم کورٹ میں جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عوام کو پانی نہیں ملتا تو سرکاری افسروں سے نہیں وزرائے اعلیٰ سے پوچھ گچھ ہوگی۔