Get Alerts

نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بری خبر: بجلی ایکسپورٹ ریٹ میں کمی اور نئی بلنگ پالیسی نافذ

نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بری خبر: بجلی ایکسپورٹ ریٹ میں کمی اور نئی بلنگ پالیسی نافذ

لاہور: لیسکو (LESCO) نے وزارتِ توانائی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے بلنگ کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیاں نافذ کر دی ہیں۔ ان ترامیم کے بعد سولر سسٹم سے بجلی گرڈ کو فروخت کرنے والے صارفین کے مالی فوائد میں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

لیسکو آئی ٹی ڈائریکٹوریٹ کے نوٹیفکیشن کے مطابق، نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے فی یونٹ ایکسپورٹ ریٹ میں 66 پیسے کی کمی کر دی گئی ہے۔ اب صارفین کو فراہم کردہ بجلی کے عوض 25 روپے 98 پیسے کے بجائے 25 روپے 32 پیسے فی یونٹ ملیں گے۔ اس نئی پالیسی کا اطلاق جنوری 2026 کے بلنگ سائیکل سے ہو چکا ہے۔

نئی پالیسی کی سب سے اہم شق منظور شدہ ڈی جی (Distributed Generation) کپیسٹی سے متعلق ہے:    صارفین اپنی منظور شدہ صلاحیت (Sanctioned Capacity) سے زائد بجلی گرڈ کو فراہم نہیں کر سکیں گے۔    اگر کوئی صارف اپنی مقررہ حد سے زیادہ یونٹس ایکسپورٹ کرے گا، تو وہ اضافی یونٹس بلنگ ایڈجسٹمنٹ میں شامل نہیں کیے جائیں گے، یعنی ان کی کوئی قیمت نہیں ملے گی۔

لیسکو نے ایکسپورٹ ایم ڈی آئی (Maximum Demand Indicator) کے لیے نیا فارمولہ متعارف کروا دیا ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ    ایکسپورٹ یونٹس کی ایڈجسٹمنٹ ڈی جی کپیسٹی کے تناسب سے محدود ہوگی۔

    صارفین کے لیے ایم ڈی آئی کا درست اندراج لازمی ہے؛ غلط ڈیٹا کی صورت میں بلنگ کے مسائل کی ذمہ داری صارف پر ہوگی۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے سولر انرجی کے فروغ پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ریٹ میں کمی اور اضافی یونٹس پر پابندی کے باعث نیٹ میٹرنگ اب پہلے کی طرح پرکشش نہیں رہی، جو سولر سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے مایوس کن ہے۔

ٹیگز: