اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور قومی سلامتی، خارجہ امور اور کھیلوں کے حوالے سے حکومت کا دوٹوک موقف پیش کیا۔
وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں بزدلانہ کارروائیاں کرنے والے 180 دہشت گردوں کو جہنم رسید کیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے پاک فوج کے 17 جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ معصوم خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے والے انسان کہلانے کے حقدار نہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ دشمن کو معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور قوم اپنے بہادر بیٹوں کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
شہباز شریف نے بھارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا مشرقی ہمسایہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں مسلسل کانٹا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک "بڑے بھائی" کا کردار ادا کیا تاکہ بات چیت کے ذریعے خطے کے خطرات کو ٹالا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان نے بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جبکہ یومِ یکجہتی کشمیر پر پوری قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔
وزیراعظم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے حکومتی فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ کھیل کے میدان میں سیاست کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے، کیونکہ ملکی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔
اقتصادی محاذ پر وزیراعظم نے خوشخبری دی کہ قازقستان کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 1 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہو چکا ہے۔