اسلام آباد: ملک بھر میں عالمی وبا کے باعث بند تعلیمی اداروں کو کھولنے کے بارے میں آج فیصلہ کیا جائے گا۔ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس بذریعہ وڈیو لنک صبح ساڑھے 11 بجے ہوگی۔
اس سلسلے میں جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کی صدارت وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کریں گے۔ اجلاس میں مئی کے آخری ہفتے اور جون کے ابتدائی ایام میں بورڈ امتحانات سے متعلق بھی غور کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ وفاقی وزارت تعلیم نے عالمی وبا کے پاکستان میں پھیلاؤ کے پیش نظر اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام تعلیمی اداروں کو چھبیس نومبر سے دس جنوری تک بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ صوبہ پنجاب میں اس وقت صرف سرکاری اور نجی دفاتر کو صرف پچاس فیصد سٹاف کیساتھ کام کرنے کی اجازت 60 سال عمر تک کے تمام ملازمین کو گھر بھیج دیا گیا ہے۔ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ ایجوکیشن کے مطابق اس فیصلے کا اطلاق اکتیس جنوری 2021ء تک ہوگا۔
خیال رہے کہ 26 نومبر کے بعد سے ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیاں بند ہیں۔ طلبہ کو آن لائن طریقے سے تعلیم دی جا رہی ہے۔ تاہم چوبیس دسمبر سے 10 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات دینے کا اعلان کا گیا تھا۔
ادھر پرائیوٹ سکول ایجوکیشن نے تعلیمی اداروں کی بندش کو ٹیچرز کا معاشی قتل قرار دیتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ 11 جنوری سے اس بندش کو ختم کرنے کا اعلان کرے۔
گزشتہ روز صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت خود نہیں چاہتی کہ بچوں کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں لیکن عالمی وبا کے خطرے کی وجہ سے یہ اقدام اٹھانا ناگزیر تھا۔
انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو ملک میں عالمی وبا کے پھیلاؤ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دوبارہ اپیل کی کہ وہ عوام کی زندگیوں کو داؤ پر نہ لگائیں اور جلسے جلوسوں سے پرہیز کریں۔