کراچی: کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت اچانک گر گئی، جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور متعدد ملبے تلے دب گئے ہیں۔ ریسکیو حکام اور دیگر امدادی ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق ملبے سے 6 لاشیں اور 6 زخمی افراد نکالے گئے، جن میں 3 خواتین شامل ہیں۔ زخمیوں کو سول اور جناح ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں ایک زخمی خاتون کی حالت تشویشناک ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عمارت میں 6 خاندان رہائش پذیر تھے اور ملبے تلے 25 سے 30 افراد دبے ہو سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ پولیس نے گرنے والی عمارت کے مالک کی تلاش جاری کردی ہے۔ایدھی ترجمان کا کہنا ہے کہ ملبےسے 6 لاشوں اور 6زخمیوں کو نکالا جا چکاہے اور جناح ہسپتال اور سول ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
واقعے کے بعد ملحقہ 2 اور 7 منزلہ عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا ہے۔ تنگ گلیوں کی وجہ سے ہیوی مشینری کو رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم علاقہ مکین امدادی کارروائیوں میں بھرپور مدد کر رہے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق عمارت کی حالت کافی عرصے سے خراب تھی اور وہاں کئی خاندان رہائش پذیر تھے۔ واقعے کے بعد علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے اور شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ جائے وقوعہ پر غیر ضروری ہجوم سے گریز کریں تاکہ امدادی کاموں میں خلل نہ پڑے۔
وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو اداروں کو فوری اور مؤثر کارروائی کی ہدایت کی ہے اور شہر کی بوسیدہ عمارتوں کی فوری نشاندہی کے لیے اقدامات کا حکم دیا ہے۔
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے رہائشی عمارت گرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ریسکیو اداروں کو فوری، مؤثر اور ہم آہنگ امدادی کارروائی کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر ملبے تلے پھنسے افراد کو بحفاظت نکالا جائے، زخمیوں کو فوری طبی امداد اور متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں، کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی قابلِ برداشت نہ ہوگی۔
اس کے علاوہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عمارت گرنے کا نوٹس لیتے ہوئے اسے ایک انتہائی افسوسناک واقعہ قرار دیا ہے،اور متعلقہ حکام کو فوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
مراد علی شاہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے شہر کی بوسیدہ و خستہ حال عمارتوں کی تفصیلات فوری طلب کر لیں اور حکم دیا ہے کہ خطرناک عمارتوں کی فوری نشاندہی اور شہریوں کی حفاظت کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔