Get Alerts

امریکا کا ایران میں خانہ جنگی پیدا کرنے کے لیے عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ

امریکا کا ایران میں خانہ جنگی پیدا کرنے کے لیے عراقی کرد رہنماؤں سے رابطہ

واشنگٹن : امریکی خبر ایجنسی ایکسوس کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عراقی کرد رہنماؤں سے ایران میں خانہ جنگی پیدا کرنے کے لیے رابطہ کیا۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ٹرمپ نے مسعود بارزانی اور بافل طالبانی جیسے اہم کرد رہنماؤں سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جو حساس نوعیت کی تھی، لیکن اس گفتگو کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ رابطہ ایران پر حملے کے ایک دن بعد کیا گیا، اور اس میں اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کی مداخلت بھی شامل تھی۔ نیتن یاہو کا خیال ہے کہ کرد ایران میں بغاوت کر کے حکومت کے خلاف تحریک شروع کر سکتے ہیں۔

اس صورتحال سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں داخلی افراتفری پیدا کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ اس اقدام کے ممکنہ اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں، کیونکہ اگر کرد ایران میں بغاوت شروع کرتے ہیں تو اس سے ایران کے اندرونی حالات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

ٹیگز: