نیویارک : اقوام متحدہ نے ایران اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے ٹام فلیچر نے کہا کہ جنگ میں گھروں، ہسپتالوں اور سکولوں پر بمباری کی جا رہی ہے، جس کے باعث خطے میں انسانی مصیبتوں کا سامنا ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جنگ کی وجہ سے اقوام متحدہ کی ردعمل کی صلاحیت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
ٹام فلیچر نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں ترسیل میں رکاوٹیں آئیں تو خوراک کا بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے، جس سے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ جائیں گی۔
اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہو گا کہ مشرق وسطیٰ میں انسانی بحران مزید گہرا ہو جائے گا، اور اس کا اثر نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی معیشت اور عوام پر پڑے گا۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یہ وارننگ اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کے اثرات عوامی سطح پر سنگین ہو سکتے ہیں اور بین الاقوامی مدد کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔