غزہ : اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں بمباری اور توپ خانے سے گولہ باری کی ہے، جس کے نتیجے میں مزید فلسطینیوں کی شہادتوں کی اطلاعات ہیں۔ خان یونس اور جنوبی غزہ پر اسرائیلی فضائیہ کی بمباری اور دیر البلاح کے مشرقی علاقوں میں اسرائیلی توپ خانے کی گولہ باری جاری رہی ہے۔
اسرائیلی حملوں میں شہادتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گیا ہے اور غزہ امن معاہدے کے بعد اب تک 236 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ مغربی کنارے میں بھی اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملے میں 2 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق، حماس نے مزید 3 اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں حوالے کر دیں، جس کے بدلے میں اسرائیل نے 45 فلسطینی قیدیوں کی میتیں خان یونس منتقل کیں۔ اب تک غزہ سے مجموعی طور پر 270 لاشیں واپس آئیں، تاہم ان میں سے صرف 75 کی شناخت ہو پائی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے کابینہ اجلاس میں غزہ میں جاری کارروائیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل امریکا کو ان آپریشنز کے بارے میں آگاہ کرتا ہے، تاہم کسی قسم کی اجازت نہیں لی جاتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کے کچھ حصوں میں حماس کے مراکز موجود ہیں جنہیں مکمل طور پر ختم کیا جا رہا ہے، خاص طور پر رفح اور خان یونس میں حماس کے مراکز کی صفائی جاری ہے۔
نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیلی فوج پر حملے کی کوشش کی گئی تو ہم حملہ آوروں اور ان کی تنظیم دونوں کو نشانہ بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی فوج کے تحفظ کے لیے کسی بھی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔