لندن: یورپ کے مختلف بڑے شہروں میں اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ لندن، روم، بارسلونا، میڈرڈ، لزبن اور ڈبلن سمیت متعدد شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیاں منعقد کی گئی ہیں جن میں فلسطینی عوام کے حق میں بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔
سپین کے شہر بارسلونا اور میڈرڈ میں ہفتوں پہلے سے مظاہروں کی تیاریاں مکمل تھیں، جہاں ہزاروں افراد نے فلسطینی پرچم اٹھا کر اور بینرز اٹھا کر شرکت کی۔ بارسلونا کی مرکزی شاہراہ پاسئیگ دے گراسیا عوام سے بھر گئی۔ مظاہرین نے بینرز پر "نسل کشی بند کرو"، "غزہ مجھے دکھ دیتا ہے" اور "فلوٹیلا کو نہ روکو" جیسے نعرے لکھے ہوئے تھے۔
یہ احتجاج اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ کو امداد پہنچانے والے "گلوبل صمود فلوٹیلا" کو روکنے اور 450 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرنے کے واقعے کے بعد مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ گرفتار شدگان میں 40 سے زائد ہسپانوی شہری بھی شامل ہیں جن میں بارسلونا کے سابق میئر بھی ہیں۔
اٹلی میں 3 اکتوبر کو ملک گیر ہڑتال کے دوران 20 لاکھ سے زائد افراد نے غزہ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا، جبکہ روم میں فلسطینی تنظیموں اور طلبہ کی مشترکہ کال پر ہزاروں افراد نے مارچ کیا۔
لندن میں بھی فلسطین ایکشن گروپ کی حمایت میں مظاہرے جاری ہیں جہاں پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار کیا۔ پولیس نے مانچسٹر میں یہودی عبادت گاہ پر حملے کے باعث مظاہروں کو ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی لیکن منتظمین نے اس کو مسترد کر دیا۔
آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں بھی ہزاروں افراد اسرائیل کی غزہ پر کارروائیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے اور حکومت سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا اور تمام بین الاقوامی کھیلوں میں اسرائیلی ٹیموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ احتجاجات اس وقت سامنے آئے ہیں جب حماس نے دو سالہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے کے کچھ نکات قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس جنگ میں اب تک 66 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور غزہ شدید تباہی کا شکار ہے۔
یہ مظاہرے یورپی عوام کی جانب سے فلسطینی عوام کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت اور عالمی برادری سے فوری انصاف اور امن کے قیام کے مطالبات کا مظہر ہیں۔