Get Alerts

ٹرمپ کی پیوٹن کو یوکرین پر مبہم مگر سخت وارننگ، امن مذاکرات کی گنجائش باقی

ٹرمپ کی پیوٹن کو یوکرین پر مبہم مگر سخت وارننگ، امن مذاکرات کی گنجائش باقی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین کے مسئلے پر ایک مبہم لیکن سخت پیغام دیا ہے کہ اگر روس نے ایسے اقدامات کیے جو امریکہ کو قبول نہ ہوں، تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد پیوٹن سے بات کریں گے، مگر روسی صدر پہلے ہی ان کے موقف سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا، "میرے پاس پیوٹن کے لیے کوئی نیا پیغام نہیں، وہ جانتے ہیں کہ میرا موقف کیا ہے۔ جو بھی فیصلہ وہ کریں گے، ہم یا تو خوش ہوں گے یا ناخوش، اور اگر ناخوش ہوئے تو آپ نتائج دیکھیں گے۔"

یہ بیان روسی صدر کے اس اعلان کے بعد آیا ہے جس میں پیوٹن نے یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کی پیشکش کی تھی۔ پیوٹن نے کہا کہ ٹرمپ نے ملاقات کی درخواست کی تھی اور وہ اس کے لیے تیار ہیں، مگر انہوں نے اس ملاقات کے نتائج پر شک کا اظہار بھی کیا کہ آیا اس سے کوئی مثبت نتیجہ نکلے گا یا نہیں۔

یوکرینی وزیر خارجہ آندریئی سیبیہا نے پیوٹن کی باتوں پر سخت ردعمل دیا اور کہا کہ زیلنسکی ملاقات کے لیے ہر وقت تیار ہیں، جبکہ روس کو امن مذاکرات میں سنجیدہ بننے پر مجبور کرنے کے لیے دباؤ بڑھانا ہوگا۔

ٹرمپ نے زیلنسکی اور پیوٹن کے درمیان براہ راست مذاکرات کی تجویز دی ہے تاکہ تین سال سے جاری جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے، تاہم روس اور یوکرین کے درمیان امن معاہدے کی شرائط پر اختلافات سخت ہیں۔ روس چاہتا ہے کہ معاہدے میں وہ چار علاقے شامل ہوں جنہیں اس نے 2022 میں ضم کیا تھا، جبکہ یوکرین کسی بھی علاقے کی واپسی سے انکار کرتا ہے۔

ماسکو سے رپورٹر درسا جباری کے مطابق، پیوٹن جنگ ختم کرنے کے لیے بات چیت پر آمادہ ہیں، لیکن یوکرین کی سیکیورٹی ضمانتوں کے بغیر کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔

دوسری جانب، زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وہ جلد ہی ٹرمپ سے بات کریں گے تاکہ روس پر مزید پابندیوں کے لیے زور دیا جا سکے۔

ٹیگز: