Get Alerts

وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں، چھوٹے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، چئیرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

وسائل کی منصفانہ تقسیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں، چھوٹے انتظامی یونٹس ناگزیر ہیں، چئیرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

فیصل آباد: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے یونیورسٹی آف فیصل آباد میں نجی یونیورسٹی "ایپ سپ" کے زیر اہتمام سیمینار "2030 کا پاکستان، چیلنج، امکانات اور نئی راہیں" سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں نئے صوبے بنانے، اختیارات کی منتقلی، اور لوکل گورنمنٹ کے قیام پر زور دیا ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ اگر پاکستان میں صوبوں کی تعداد بڑھائی جائے تو اس سے نہ صرف بہتر سیاسی قیادت سامنے آئے گی بلکہ انتظامی امور بھی زیادہ مؤثر طریقے سے انجام دیے جا سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام میں اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے گئے جس کی وجہ سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو پایا۔

انہوں نے تاریخی حوالوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو صدیوں میں بادشاہتیں عوام سے وسائل اکٹھے کر کے مملکت کو بڑھاتی رہیں لیکن جمہوریت کا قیام عوام میں شعور کی بیداری کی وجہ سے ہوا جس نے عوام کو اپنا حق سمجھنے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرنے کا موقع دیا۔ جمہوری نظام میں قومی حکومت کے ساتھ ساتھ چھوٹے انتظامی یونٹس بنانا ضروری ہو گیا تاکہ وسائل براہ راست عوام تک پہنچ سکیں۔

میاں عامر نے کہا کہ پاکستان میں 78 سال سے لوکل گورنمنٹ قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں مگر کسی بھی صوبائی حکومت نے حقیقی طور پر اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی کوشش نہیں کی، جس کی وجہ سے عوام کو ان کے حقوق نہیں مل رہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی فلاح و بہبود، انصاف، تعلیم، اور قانون کے نظام کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور عالمی اداروں کی رپورٹس بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

چیئرمین پنجاب گروپ نے کہا کہ پاکستان میں پنجاب کی آبادی 53 فیصد ہے اور باقی تین صوبے مل کر 43 فیصد ہیں، مگر وسائل کی تقسیم اس کے مطابق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے پاس پنجاب جتنا بجٹ نہیں ہوتا، اس لیے نئے صوبے بنانا ضروری ہیں تاکہ ہر خطے کو اس کے حقوق مل سکیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی مثال سے سبق سیکھنا چاہیے جہاں صوبوں کی تعداد بڑھانے سے ترقی ہوئی ہے۔

میاں عامر نے فیصل آباد، سرگودھا، بہاولپور، ملتان، اور ڈی جی خان کو الگ صوبے بنانے کی تجویز دی اور کہا کہ اس سے نہ صرف سیاسی لیڈر شپ میں تنوع آئے گا بلکہ انتظامی اخراجات بھی کم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام مڈل کلاس کو آگے آنے کا موقع نہیں دیتا، جبکہ بھارت میں ایک چائے فروش سے وزیراعظم بننے کا ریکارڈ موجود ہے، جو عوامی خدمت کے ذریعے ممکن ہوا۔

انہوں نے پاکستان میں عدالتوں کے طویل کیسز اور عدالتی نظام کی کمزوریوں پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ عدالتوں میں مقدمات کا بہت زیادہ بوجھ ہے، جس کی وجہ سے انصاف میں شدید تاخیر ہوتی ہے اور لوگوں کی زندگیوں پر منفی اثرات پڑتے ہیں۔

چیئرمین پنجاب گروپ نے نوجوانوں پر بھی خصوصی زور دیا اور کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر صرف ایک فیصد نوجوان یونیورسٹیوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی شعور اور خود احتسابی کو فروغ دیں تو ملک میں حقیقی تبدیلی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور یہ معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ طاقت کا ناجائز استعمال سب سے بڑی کرپشن ہے جس سے بچنا ضروری ہے۔ انہوں نے ووٹ کو سب سے بڑا ہتھیار قرار دیا اور کہا کہ ووٹر کو چاہیے کہ وہ اپنے منتخب نمائندے کا مکمل احتساب کرے تاکہ بہتر لیڈر سامنے آسکیں۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ اگر پاکستان میں شفافیت اور بہتر گورننس چاہیے تو چھوٹے صوبے بنانا ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بجٹ کے حساب سے بلوچستان کو اتنا وسائل نہیں مل پاتے جتنا چاہیے اور چھوٹے صوبے بننے سے انتظامی اخراجات میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کو مضبوط کر کے ہی اچھی لیڈرشپ سامنے لائی جا سکتی ہے کیونکہ جب پارٹی مضبوط ہوتی ہے تو وہ ایسے امیدوار کو ٹکٹ دیتی ہے جس کا ٹریک ریکارڈ ہوتا ہے۔

میاں عامر نے کہا کہ پاکستان کو اپنی لوکل گورنمنٹ مضبوط کرنی ہوگی اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنی ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنا ہوگا اور نظام کو بہتر بنانے کے لیے کوشاں رہنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ 33 نئے صوبے بنانا مشکل ضرور ہے مگر اگر اس پر اتفاق ہو جائے تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو اکٹھے ہو کر ملک کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا اور نوجوانوں کو اپنی طاقت سمجھنی ہوگی تاکہ وہ اپنی اور ملک کی تقدیر بدل سکیں۔

ٹیگز: