لاہور: چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود نے پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں ملکی نجی یونیورسٹیوں کے مشترکہ پلیٹ فارم "سپ ایپ" کے زیر اہتمام سیمینار "2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں" سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی موجودہ سیاسی، سماجی اور انتظامی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے عوامی شعور اور طاقت کو بنیاد بنانا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے اپنی ترقی میں عوام کی طاقت کو مرکزی حیثیت دی ہے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ ماضی میں سلطنتیں بادشاہوں کے لیے ہوتی تھیں، لیکن آج دنیا میں ایسے ممالک ہیں جو عوام کی طاقت سے چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور نے دنیا کے سیاسی اور سماجی نظام کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے، اور یہی عوامی طاقت ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔
چیئرمین پنجاب گروپ نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی یونٹس کی محدود تعداد پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ آزادی کے وقت پاکستان میں چار صوبے تھے جن کی آبادی تقریبا 3 کروڑ تھی، جبکہ آج صرف پنجاب کی آبادی 13 کروڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اس کے برعکس، بھارت نے اپنی آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ صوبوں کی تعداد بھی بڑھا کر 28 صوبے اور 9 یونین ٹیریٹریز بنا لیے ہیں۔ چین، انڈونیشیا، کینیڈا اور ایران نے بھی اپنی انتظامی تقسیم میں توسیع کی ہے جبکہ پاکستان آج بھی چار صوبوں پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی شدید ضرورت ہے تاکہ بڑے پیمانے پر آبادی کو بہتر طریقے سے منظم کیا جا سکے۔
میاں عامر محمود نے پاکستان کی عالمی سطح پر ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پستی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 193 ممالک میں 168 ویں نمبر پر ہے، اور اس سے پیچھے صرف وہ ممالک ہیں جہاں خانہ جنگی جاری ہے۔ ساتھ ہی، پاکستان کا سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز میں بھی نمبر 140 ہے جو انتہائی غیر مطمئن کن ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ہم اپنے عوام کو کون سے مواقع فراہم کر رہے ہیں، اور کہا کہ تعلیم، صحت، روزگار جیسے بنیادی شعبے ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کی بنیاد ہیں، لیکن پاکستان ان میں پیچھے رہ گیا ہے۔
چیئرمین پنجاب گروپ نے بتایا کہ پاکستان میں 44 فیصد بچے سٹنٹڈ گروتھ یعنی غذائی قلت کا شکار ہیں اور تقریباً آدھے بچوں کو پیٹ بھر کر کھانا بھی میسر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 25 ملین بچے اسکولوں سے محروم ہیں، جو دنیا کا ایک انوکھا مسئلہ ہے۔
انہوں نے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو بے روزگار قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کی آبادی کا 64 فیصد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، مگر انہیں نوکریوں کے مواقع نہیں مل رہے، جو ملک کی ترقی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔
میاں عامر محمود نے بلوچستان کی گیس کے وسائل کے باوجود وہاں کے عوام کو مناسب سہولیات نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی حقوق، مساوات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ایک مضبوط اور پائیدار ریاست کی بنیاد ہے، لیکن بدانتظامی کی وجہ سے پاکستان اس حد تک نہیں پہنچ سکا۔
چیئرمین پنجاب گروپ نے پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی شدید ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے صوبوں کو چھوٹے ایڈمنسٹریٹو یونٹس میں تقسیم کرنے سے انتظامی اخراجات کم ہوں گے اور ترقیاتی بجٹ میں اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب کے بڑے ڈویژن جیسے لاہور، قصور اور شیخوپورہ کو ایک الگ صوبہ بنا دیا جائے تو انتظامی اصلاحات میں بہتری آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا صوبہ منتخب اسمبلی اور وزیراعلیٰ کا حامل ہوگا، جس سے عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے بہتر نمائندگی ملے گی۔ اس سے نہ صرف وسائل کی منصفانہ تقسیم ہوگی بلکہ حکومتی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔
میاں عامر محمود نے سیاسی نظام میں لیڈرشپ کی کمی اور اسے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی نظام عام آدمی کو آگے بڑھنے نہیں دیتا اور سیاست میں چند خاندانوں کا غلبہ ہے، جس سے نئی قیادت کی ترقی ممکن نہیں۔
انہوں نے نوجوانوں کو موقع دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بھارت اور ترکی جیسے ممالک میں مقامی قیادت نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
چیئرمین پنجاب گروپ نے کہا کہ پاکستان میں انصاف کے نظام کی بہتری کے بغیر بیرونی سرمایہ کاری ممکن نہیں۔ انہوں نے عدالتوں میں کیسز کی طویل مدت اور ججز کے کام کے بوجھ کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس نظام کی کمزوری کی وجہ سے سرمایہ کاری رک گئی ہے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ اگر بلوچستان میں پانچ چھوٹے صوبے بن جائیں تو علیحدگی کی تحریک ختم ہو جائے گی، اور انہوں نے بھارتی پنجاب کی مثال دی جہاں خالصتان تحریک کے خاتمے کے لیے صوبے تقسیم کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوکل گورنمنٹ کا نظام مضبوط نہیں اور صوبے اس کا اختیار نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نئے صوبے بنیں گے تو کم از کم چھ وزیراعلیٰ لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کریں گے، جس سے حکومتی کارکردگی بہتر ہو گی۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ نوجوانوں اور عوام میں شعور بیدار کرنا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے تاکہ پاکستان کا مستقبل روشن ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس شعور کو عام کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں تاکہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور ملک میں اصلاحات کا سلسلہ شروع ہو۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ میاں عامر محمود نے گزشتہ دنوں سپیریئر یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف لاہور میں بھی ملک میں نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔