Get Alerts

ایپ سپ کے زیر اہتمام سپیریئر یونیورسٹی میں سیمینار ، ملک میں نئے صوبوں کاقیام وقت کی اہم ضرورت بن چکاہے،چئیر مین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

ایپ سپ کے زیر اہتمام سپیریئر یونیورسٹی میں سیمینار ، ملک میں نئے صوبوں کاقیام وقت کی اہم ضرورت بن چکاہے،چئیر مین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

لاہور : سپیریئر یونیورسٹی میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (APSUP) کے زیر اہتمام ایک اہم اور معلوماتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا موضوع تھا: "2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں"۔ اس سیمینار میں مہمان خصوصی کے طور پر چیئرمین پنجاب گروپ، میاں عامر محمود، اور چیئرمین APSUP، پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمان نے شرکت کی۔

سیمینار کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمان نے کیا جنہوں نے تعلیم اور ترقی کے حوالے سے اہم نکات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہائر ایجوکیشن میں پرائیویٹ سیکٹر کی شراکت ملکی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔

چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے سپیریئر یونیورسٹی میں "2030 کا پاکستان" کے عنوان سے ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے  (ایپ سپ) کے تحت تقریب کے انعقاد پر پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبدالرحمن کو مبارکباد بھی پیش کی۔

میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ چوہدری عبدالرحمن نے نئے صوبوں کے حوالے سے قیادت کا کردار ادا کیا ہے، اور اس پر ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں فیڈریشن کا تصور موجود ہے، جہاں کئی صوبے وفاق کے تحت کام کرتے ہیں۔ "امریکہ میں 50 ریاستیں ہیں، جبکہ ہمارے ہاں صرف 4 فیڈرل یونٹس ہیں۔"

مہمان خصوصی میاں عامر محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ترقی کی بنیادی شرط بہترین گورننس اور لیڈرشپ ہے، خاص طور پر موجودہ کرائسس پر قابو پانا نہایت اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی گورننس سٹرکچر میں جلد اصلاحات کا نفاذ ضروری ہے تاکہ حکومتی امور بہتر انداز میں انجام دیے جا سکیں۔ میاں عامر محمود نے کہا کہ اگر پاکستان کے 33 ڈویژنز کو صوبوں میں تبدیل کر دیا جائے تو عام آدمی کے مسائل کو حل کرنا آسان ہو جائے گا اور حکومت کا کام عوام کی نظروں میں واضح ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کم آبادی والے صوبوں میں کرپشن کے مواقع بھی کم ہوں گے، جس سے شفافیت اور عوامی فلاح و بہبود کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے APSUP کے پلیٹ فارم سے اس انقلابی تحریک کا تفصیلی ڈھانچہ بھی پیش کیا۔

انہوں نے وضاحت کی کہ وفاق کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ ہر علاقے کے مسائل خود دیکھ سکے، اسی لیے صوبے بنائے جاتے ہیں تاکہ وہ مقامی سطح پر صفائی، انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات کو بہتر طریقے سے سنبھال سکیں۔ "صوبے لوکل گورنمنٹ بناتے ہیں، جو گلی محلوں، سڑکوں، پارکوں اور دیگر عوامی سہولیات کا خیال رکھتی ہیں۔"

انہوں نے تاریخی تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ بادشاہی نظام میں عوام پر ٹیکس لگا کر جنگیں لڑی جاتی تھیں، لیکن وقت کے ساتھ عوام کو یہ شعور آیا کہ طاقت دراصل عوام سے ہی آتی ہے۔

انہوں نے جمہوریت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں کہیں بھی ایسا نظام نہیں جہاں ایک شخص سب کچھ دیکھ رہا ہو، بلکہ ہر ادارے کو جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔

ریاست کی بنیادی ذمہ داری عوام کو سہولیات فراہم کرنا ہے، میاں عامر محمود نے زور دیتے ہوئے کہا، "اگر ریاست اپنا کردار ادا کرے تو روزگار پیدا ہوتا ہے، ورنہ بے روزگاری جنم لیتی ہے۔ والدین اپنی اولاد کا پیٹ کاٹ کر پرورش کرتے ہیں، اسی طرح ریاست کو بھی اپنے شہریوں کی فلاح کا خیال رکھنا ہوگا۔" انہوں نے کہا کہ ملک حکومت کی پالیسیوں سے چلتے ہیں، نیتوں سے نہیں۔ 

سیمینار میں طلباء و طالبات نے فعال شرکت کی اور سوالات کے ذریعے موضوع پر تفصیلی گفتگو کی، جس سے طلباء کی دلچسپی اور آگاہی کا اندازہ لگا جا سکتا ہے۔

اختتام پر، چیئرمین APSUP پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمان نے مہمان خصوصی میاں عامر محمود کا شکریہ ادا کیا اور انہیں APSUP کی جانب سے یادگاری سوونیئر پیش کیا۔

یہ سیمینار ملک کی تعلیمی، سیاسی اور سماجی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو طلباء کو ملکی مسائل اور ان کے حل کی طرف توجہ دلانے میں معاون ثابت ہوگا۔

ٹیگز: