تحریر: طارق وسیم
خیبر پختونخواہ میں گورنر راج کی باتیں شد و مد سے جاری ہیں ،تحریک انصاف کے سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں ،اس کا خطرہ موجود ہے،دوسری جانب فیصل واؤڈا ان کی جماعت کو دھمکیاں دے رہے ہیں ،ان کا کہنا ہے نو مئی کے وہ مجرمان جو کے پی کے میں چھپے ہوئے ہیں نہ صر ف انہیں سزا ملے گی بلکہ زیادہ چوں چراں کی تو بچی کھچی سیاست بھی گورنر راج لگا کر ختم کر دی جائے گی
ان کا یہ بھی کہنا ہے بانی سے اہل خانہ کی ملاقاتوں میں سیاست کی جا ر ہی ہے ، جیل مینوؤل میں جس کی قطعی اجازت نہیں، اس لیے اب یہ ملاقاتیں بند کر دی جائیں گی ،بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ عظمیٰ خان نے ان سے ملنے کے بعد تصدیق کر دی ہے کہ وہ تندرست ہیں ،اسد قیصر دہائیاں دے رہے ہیں کہ وہ سچے پاکستانی ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر موجود تحریک انصاف کے لوگوں کا طرز عمل اس سے بالکل مختلف ہے
یہ سارا سلسلسہ شروع ہوا ایک نوٹی فیشن جاری کرنے کے مطالبے سے ،بات آگے بڑھی اور مطالبہ شدت اختیار کرتا گیا ، حتیٰ کے وزیر دفاع کو بیان دینا پڑا کہ نوٹی فکیشن ہوگا لیکن اپنے وقت پر ،رانا ثنا اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے بھی اسی قسم کے بیانات دیے ،آئین میں ستائیسویں ترمیم کے بعد چیف آف ڈیفنس سٹاف کا نیا عہدہ تخلیق کیا گیا تھا جو تینوں افواج کا سربرا ہ ہوگا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف ہیں
کنفیوژن پھیلانے والوں نے عہدے کی مدت اور اس کے آغاز کی تاریخ کو متنازعہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی کبھی 29 نومبر کا راگ الاپا گیا ،کبھی دعویٰ کیا گیا کہ نواز شریف ملک سے باہر جا چکے ہیں ،یہ بھی کہا گیا کہ وزیر اعظم جان بوجھ کر یورپ اور بحرین کے دورے پر گئے ہیں ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف ملک میں ہی موجود ہیں اور تھے ،وزیر اعظم بھی واپس آچکے ہیں
نوٹی فکیشن بھی ہو چکا ہے جس کے بعد چائے کی پیالی میں برپا طوفان تو تھم جائے گا لیکن یاران من کسی نئے شوشے کی تلاش کریں گے اور یقینا اسے چھوڑیں گے ،شہزاد اکبر اشتہاری ہو گئے ہیں اور ان کے متعلق حکومتی کارروائی دیکھ کر مکافات عمل پر یقین گہرا ہونے لگتا ہے ،یہ وہی شہزاد اکبر ہیں جو لوگوں کے اشتہار نکالا کرتے تھے،مغربی میڈیا میں موجود لوگوں کی مدد سے جھوٹی اور جعلی خبریں چھپاتے تھے
اسلام آباد اور راولپنڈی کی کی زمینوں پر قبضے کرواتے تھے ، کوئی بھی نیا آئینی عہدہ جس روز سے کام شروع کرتا ہے وہیں سے اس کی مدت کاآغاز ہوتا ہے ،حکومت چاہے تو نوٹی فکیشن میں اس تاریخ کا ذکر بھی کر سکتی ہے لیکن پہلی مرتبہ بننے والا آفس کسی مخصوص تاریخ کا پابند نہیں ہوتا، تا وقتیکہ حکومت باقاعدہ اس تاریخ کا اعلان نہ کر دے ،یہ ایک سیدھا سا قانونی اور آئینی نکتہ ہے ، لیکن اس کو متنازعہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی،اور بات اس حد تک بڑھی کہ وفاقی وزرا کو جواب دینے پڑے ، خبروں میں زندہ رہنے کے لیے کی جانے والی یہ حرکتیں تحریک انصاف کو سیاسی طور پر شدید نقصان پہنچا رہی ہیں
ہم الطاف حسین کے کیس میں یہ دیکھ چکے ہیں،چند لوگ یہ بات سمجھتے بھی ہیں لیکن شاید جماعت میں ان کی ماننے والا کوئی نہیں دوسری جانب ایک شتر بے مہار طبقہ ہے جو کسی قانون یا ضابطے کو ماننے یا جاننے سے انکاری ہے ،دنیا بھر میں سوشل میڈیا ریگولیشنز جا ری ہیں ، اور اب پاکستان میں بھی اس بات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے کہ خواہشات کو خبر بنانے کا سلسلہ روکا جائے ،کچھ ایسی قانون سازی کی جائے جس کے تحت خبر دینے کا حق صرف پروفیشنلز ہی کو ہو پھر چاہے وہ سوشل میڈیا ہو یا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا
نوٹ: neonews.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے

طارق وسیم پاکستان بالخصوص لاہور کی صحافت میں جانا پہچانا نام ہے دو دہائی قبل انگریزی جرنلزم سے کیریئر کا آغاز کرنے والے طارق وسیم نے براڈ کاسٹ جرنلزم میں بطور رپورٹر،اینکر اور نیوز ڈیپارٹمنٹ میں اپنی منفرد پہچان بنائی ہے