مکہ مکرمہ: لاکھوں فرزندانِ توحید نے ’’لبیک اللّٰہم لبیک‘‘ کی گونج میں مناسکِ حج کا آغاز کر دیا۔ حج کے سب سے اہم رکن وقوفِ عرفہ آج ادا کیا جائے گا، جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے عازمین عرفات کے میدان میں جمع ہوں گے۔
رواں سال خطبۂ حج کو 35 عالمی زبانوں میں ترجمہ کر کے نشر کیا جائے گا، تاکہ دنیا کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان براہِ راست اس روحانی پیغام کو سمجھ سکیں۔
عازمین حج نے 8 ذوالحجہ کو منیٰ میں قیام کیا، اور آج 9 ذوالحجہ کو وہ میدانِ عرفات پہنچ رہے ہیں۔ یہاں وہ حج کا خطبہ سنیں گے، ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے ادا کریں گے اور سورج غروب ہونے تک وقوف کریں گے۔
مغرب کے وقت بغیر نماز ادا کیے، حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہوں گے، جہاں وہ مغرب اور عشاء کی نمازیں ملا کر پڑھیں گے، رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے، اور شیطان کو مارنے کے لیے کنکریاں جمع کریں گے۔
10 ذوالحجہ کو عازمین بڑے شیطان کو سات کنکریاں ماریں گے، قربانی کریں گے، حلق یا قصر کروا کر احرام کھولیں گے۔ 11 اور 12 ذوالحجہ کو تینوں شیطانوں (چھوٹے، درمیانے، بڑے) کو سات سات کنکریاں ماری جائیں گی۔
اس کے بعد حجاج کرام طوافِ زیارت کے لیے خانہ کعبہ جائیں گے اور صفا و مروہ کی سعی کریں گے۔ 13 ذوالحجہ کو آخری رمی کے بعد حجاج منیٰ سے روانہ ہو کر اپنی قیام گاہوں کو واپس چلے جائیں گے۔