مکہ مکرمہ: لبیک اللہم لبیک کی صداؤں سے فضائیں گونج اٹھیں، دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں عازمینِ حج نے رات منیٰ کی خیمہ بستی میں کھلے آسمان تلے عبادت اور مناجات میں گزاری، جس کے بعد نمازِ فجر ادا کرتے ہی حجاج کرام کا قافلہ حج کے رکنِ اعظم کی ادائیگی کے لیے میدانِ عرفات روانہ ہو گیا ہے۔
عازمینِ حج مسجدِ نمرہ میں حج کا خطبہ سنیں گے، جس کے بعد میدانِ عرفات میں ہی ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ (جمع کر کے) ادا کی جائیں گی۔زوالِ آفتاب کے بعد سے غروبِ آفتاب تک حجاجِ کرام اللہ کے حضور رو رو کر دعائیں اور استغفار کریں گے۔ یاد رہے کہ وقوفِ عرفہ حج کا سب سے اہم اور بنیادی رکن ہے۔
غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی عازمینِ حج مغرب کی نماز پڑھے بغیر مزدلفہ کی طرف پیش قدمی کریں گے، جہاں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی اور رات کھلے آسمان تلے گزاری جائے گی۔سیکیورٹی اور حجاج کی سہولت کے لیے سعودی حکومت کی جانب سے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ عازمینِ حج سکون اور اطمینان کے ساتھ مناسکِ حج ادا کر سکیں۔