Get Alerts

تقوی اختیارکرناایمان والوں کی شان ہے ، یہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کی خیر کا باعث ہے ،خطبہ حج

تقوی اختیارکرناایمان والوں کی شان ہے ، یہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ کی خیر کا باعث ہے ،خطبہ حج

مکہ مکرمہ : لبیک اللہم لبیک کی روح پرور صداؤں کے ساتھ مناسک حج کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے آئے لاکھوں مسلمان اس وقت میدان عرفات میں جمع ہیں، جہاں آج کا دن حج کا سب سے اہم رکن سمجھا جاتا ہے۔

مسجد الحرام کے امام اور ممتاز عالم دین شیخ صالح بن حمید اس موقع پر خطبہ حج دے رہے ہیں۔ اس خطبے کو دنیا بھر کے عازمین کے لیے اردو، انگریزی سمیت 35 زبانوں میں براہِ راست ترجمے کے ساتھ نشر کیا جا رہا ہے، تاکہ ہر زبان بولنے والا مسلمان اس پیغام کو سمجھ سکے۔

میدان عرفات میں دعاؤں، آنسوؤں اور توبہ و استغفار کا منظر ہر طرف چھایا ہوا ہے۔ عازمین حج اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکے ہوئے ہیں، اور امتِ مسلمہ کی بھلائی، امن اور بخشش کے لیے دعائیں مانگ رہے ہیں۔

مسجد نمرہ میں حج 2025 کے عظیم الشان موقع پر خطبہ حج دیتے ہوئے مسجد الحرام کے امام، شیخ ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید نے کہا کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، اس سے دور رہنا ضروری ہے۔ انہوں نے تقویٰ، نیکی، صبر، شکر اور وعدے کی پاسداری پر زور دیا۔

امام کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کا حکم دیا ہے، اور یہی ایک مؤمن کی اصل پہچان ہے۔ تقویٰ کو انہوں نے دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ قرار دیا۔

شیخ ڈاکٹر صالح نے رسول اکرم ﷺ کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ نہ کر سکو تو اس احساس کے ساتھ عبادت کرو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔"
انہوں نے کہا کہ دشمن کو معاف کرنا بھی نیکی کا عمل ہے، اور نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ نیکیوں کی کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر نماز کی پابندی کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اللہ اور بندے کے درمیان بہترین تعلق کا ذریعہ ہے۔

خطیب نے دل کی بیماریوں یعنی باطنی امراض سے بھی خبردار کیا اور کہا کہ یہ روحانی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ رمضان کے روزے ان باطنی امراض کو ختم کرنے اور اللہ کے قرب کا ذریعہ بنتے ہیں۔

مسجد الحرام کے امام شیخ صالح بن عبداللہ بن حمید نے خطبہ حج کے دوران کہا کہ اسلام کے تین اہم درجے ہیں اور ان میں سب سے اعلیٰ درجہ "احسان" ہے۔ احسان کا مطلب ہے اللہ کی عبادت ایسے کرنا جیسے ہم اسے دیکھ رہے ہوں یا کم از کم یہ یقین رکھنا کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ والدین سے حسن سلوک، صلہ رحمی، نرمی سے پیش آنا، وعدے پورے کرنا اور سچ بولنا دین اسلام کے اہم اصولوں میں شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "حیا" ایمان کی ایک شاخ ہے اور ایمان و حیا ایک دوسرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتے۔

شیخ صالح بن عبداللہ نے حجاج کرام کو نصیحت کی کہ وہ حج کے دوران اللہ کا خوب ذکر کریں، دل سے دعائیں مانگیں اور دنیا و آخرت کی بھلائیاں طلب کریں۔ انہوں نے قرآن کریم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیکی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے اور برائی سے بچنا چاہیے۔

امام صاحب کا کہنا تھا کہ اللہ صبر کرنے والوں کو پورا اجر دیتا ہے، اور سچے مؤمن وہی ہیں جو ہمیشہ سچ بولتے ہیں اور جھوٹ سے بچتے ہیں۔

خطبے کے اختتام پر امام مسجد الحرام نے پوری امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں، جس میں امن، اتحاد، خیر و برکت اور مغفرت کی دعائیں شامل تھیں۔ خطبے کا اختتام بھی اسی پیغام پر ہوا کہ ایمان، تقویٰ، سچائی، صبر، شکر اور عبادت ہی وہ خوبیاں ہیں جو ایک مسلمان کو کامیاب بناتی ہیں۔

ٹیگز: