راولپنڈی : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی نے ہر کارکن اور رہنما پر ذمے داری عائد کر دی ہے، یہ ایک "جہاد" ہے جسے ہم سب نے مل کر لڑنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو آئینی اختیار میرے پاس ہے، میں اُسے احتجاج کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کروں گا۔
اڈیالہ جیل میں بانی تحریک انصاف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے پی کا کہنا تھا کہ ان کی بانی سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کا بجٹ آنے والا ہے، اور بانی کی مشاورت بجٹ میں ضروری ہے۔ اگر معاشی ٹیم کو ملاقات کی اجازت نہ ملی تو ہم آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کریں گے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ بانی نے ہدایت دی ہے کہ فنڈز براہ راست اراکین کو نہ دیے جائیں، بلکہ اراکین اسکیمیں تجویز کریں گے، جن کی منظوری ایک اسکروٹنی کمیٹی دے گی۔ اس طریقہ کار کی بانی نے بھی منظوری دے دی ہے۔
انہوں نے عدالتی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات میں پراسیکیوشن تاخیر کر رہی ہے، اور اب عدلیہ آزاد نظر نہیں آتی۔ "ہمیں کہیں سے انصاف ملتا دکھائی نہیں دے رہا،" انہوں نے کہا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم اپنے احتجاج کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ "پاکستان کے ایک مقبول ترین لیڈر کو جیل میں رکھا گیا ہے، ہم اس کے خلاف سڑکوں پر آئیں گے، اور اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔"
انہوں نے مزید کہا کہ بانی کو اپنی قوم پر فخر ہے، اور حالیہ انتخابی نتائج نے یہ ثابت کیا ہے کہ قوم جاگ چکی ہے۔ "ہم پر گولیاں چلائی گئیں، جو دنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ہوا،" انہوں نے کہا۔
ملک کی موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس ملک پر قابض ہیں، وہ اسے تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں۔ "ہمارے ملک کا بجٹ قرضوں سے شروع ہوتا ہے، اور اگر گھر قرضوں پر چلے گا تو یہ سودا ہوگا،" انہوں نے کہا۔
علی امین گنڈاپور نے بشریٰ بی بی سے ملاقات پر پابندی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا، اور کہا کہ پارٹی کی قیادت اور کارکنان جیلوں میں ہیں، لیکن ہم غلام بننے کو تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا لیڈر اپنی نسلوں کے لیے قربانی دے رہا ہے، اور ہم اس نظام کو زورِ بازو سے شکست دیں گے۔ ہمارا بجٹ ٹیکس فری ہوگا اور ہم عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بانی نے پارٹی کو ہدایت دی ہے کہ احتجاج کو آئینی دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جائے، اور ہر سطح پر جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے۔